محکمہ رجسٹریشن سے ایل آر ایس پورٹل کو جوڑ دیا گیا ، آج سے فیس ادائیگی کیلئے سافٹ ویر دستیاب

   

آن لائن یو پی آئی کے ذریعہ ادائیگی کی سہولت ، ڈی ڈی قبول نہیں کی جائے گی
حیدرآباد۔ 25 فروری (سیاست نیوز) ایل آر ایس کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی حکومت اُس سلسلے میں تیزی سے پیشقدمی کررہی ہے۔ 31 مارچ تک درخواستیں داخل کرنے والوں کو 25% رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد 10% رجسٹریشن فیس کے ساتھ ماباقی پلاٹس کے لے آؤٹ کے رجسٹریشن کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ایک حصہ کے طور پر سنٹر فار گڈ گورننس کی تحویل میں موجود LRS Portal کو محکمہ رجسٹریشن سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کل شام ہی ایل آر ایس کی تفصیلات رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کو مل چکی ہیں۔ منگل سے رجسٹرار کے دفاتر میں ایل آر ایس کی فیس ادائیگی کو یقینی بنادیا گیا ہے۔ ایل آر ایس درخواستوں کیلئے ادا کی جانے والی فیس ڈی ڈی کے علاوہ دیگر تمام طریقوں سے ادا کرنے کی گنجائش فراہم کی جارہی ہے۔ ڈی ڈی کے ذریعہ ادا کرنے پر 10 درخواستوں کو اس سے جوڑنے کے امکانات ہیں، کسی بھی غلطی کی گنجائش کے بغیر آن لائن بینکنگ گوگل پے، فون پے اور دیگر یو پی آئی پے منٹس کے ذریعہ ادائیگیوں کی گنجائش فراہم کی جارہی ہے۔ سال 2020ء میں ریاست کے تمام پنچایتوں، میونسپلٹیز، کارپوریشنس، اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹیز سے تقریباً 25.68 لاکھ افراد نے LRS کیلئے درخواستیں داخل کی ہیں۔ ڈی ٹی سی دیویندر ریڈی نے بتایا کہ ان میں کتنے لوگ فیس کے دائرۂ کار میں شامل ہوتے ہیں، اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کیلئے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے محکمہ نظم و نسق نے 2 میمو جاری کئے ہیں۔ میونسپل کمشنرس، اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے وی سیز، جی ایچ ایم سی کمشنرس ڈی ٹی سی اوز کو اپنی حدود میں موجود آبی ذخائر کے سروے نمبر، جھیلوں کے اندرون 200 میٹر کی زمینوں اور سرکاری اراضی سے متعلق سروے نمبرس جی سی سی کو روانہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان دو زمروں میں نہ آنے والی درخواستوں کا پنچایت راج اور محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیدار جائزہ لیں گے۔ ان اراضیات کیلئے فیس آٹومیٹک جنریٹ ہوگی۔ انہیں بھی 31 مارچ تک 25% رعایت حاصل ہوگی۔2