مخالف ہندوتوا ریمارکس ،کنڑ فلمسٹارچیتن اہنسا گرفتار

   

ہندوتوا ، بابری مسجد اور ٹیپو سلطان کے بارے میں ٹوئٹر پر ریمارکس کا شاخسانہ
حیدرآباد۔/21 مارچ، ( سیاست نیوز) کنڑا فلموں کے ایکٹر چیتن اہنسا کو بنگلور میں ہندو طبقہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ فلم اسٹار نے اپنے تازہ ترین ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ہندوتوا جھوٹ پر مبنی ہے۔ فلم اسٹار کو آج صبح شیشادری پورم پولیس نے گرفتار کرکے ضلع کورٹ میں پیش کیا۔ چیتن اہنسا نے پیر کے دن ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ہندوتوا ساورکر کے جھوٹ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ہندوستانی قوم کا آغاز اس وقت ہوا جب لارڈ رام نے راون کو شکست دینے کے بعد ایودھیا واپسی کی تھی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ 1992 میں بابری مسجد کو رام کا جائے پیدائش قرار دینا ایک جھوٹ ہے۔ 2023 میں یہ کہنا کہ یوری گوڑا اور ننجے گوڑا ٹیپو سلطان کے قاتل ہیں یہ بھی جھوٹ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہندوتوا کو سچائی کے ذریعہ شکست دی جاسکتی ہے اور سچائی مساوات میں ہے۔ ٹوئیٹ کے بعد فلم ایکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ 39 سالہ فلم اسٹار دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ قبائیل کے حقوق کیلئے جہد کار ہیں۔ سابق میں وہ سوشیل میڈیا پر اپنے بیانات کے سبب ہندوتوا تنظیموں کی ناراضگی مول چکے ہیں۔ 23 فروری 2022 کو انہیں کرناٹک ہائی کورٹ کے جج جسٹس کرشنا ڈکشٹ کے خلاف ریمارک پر گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس ڈکشٹ اس بنچ کا حصہ تھے جس نے بومائی حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ 16 فروری 2022 کو چیتن نے جسٹس ڈکشٹ کے بارے میں اپنے پرانے ٹوئیٹ کو دوبارہ پیش کیا جس میں عصمت ریزی کے ایک ملزم کو قبل از گرفتاری ضمانت کی منظوری پر نکتہ چینی کی گئی۔ 23 اکٹوبر 2022 کو ایف آئی آر درج کی گئی جس میں انہوں نے فلم ڈائرکٹر اور اداکار ریشب شیٹی کے خلاف ریمارکس کئے تھے۔ چیتن نے اپنے بیان کی وضاحت کیلئے پریس کانفرنس منعقد کی لیکن ہندوتوا تنظیمیں مطمئن نہیں ہوئیں۔ر