10 بچوں کی موت کے بعد پولیس کی کارروائی‘کمپنی کی دیگر دواؤں پر بھی پابندی
بھوپال۔5 اکتوبر ( ایجنسیز )کھانسی کی دوا کے طور پر استعمال ہونے والے سیرپ ’کولڈ رف‘ سے مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ کے پرسیا میں 10 بچوں کی موت کے معاملے میں پولیس نے ڈاکٹر پراوین سونی کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب کھانسی کی سیرپ ’کولڈ ریف‘ پینے کے بعد بچوں کی موت ہوئی۔اس معاملے میں سری سن فارماسیوٹیکلز اور ڈاکٹر پراوین سونی پر غیرقانونی طور پر سیرپ دینے کا الزام ہے۔ ڈاکٹر سونی پر ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات ایکیوٹ کڈنی انجری (اے کے آئی) کی وجہ سے ہوئی ہیں نہ کہ ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس) سے۔ پرسیا کے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ شبھم کمار یادو نے بتایا کہ 4 ستمبر سے اب تک 9 بچوں کی موت ہو چکی ہے، جن میں شیوم راٹھور، ودھی، عدنان، اسید، رشیکا، ہتانش، چنچلیش، وکاس اور سندھیا شامل ہیں۔ 13 دیگر بچوں کا چھندواڑہ اور نانگواڑہ کے ہاسپٹلس میں علاج کیا جا رہا ہے۔پانی اور دیگر نمونوں کی وسیع جانچ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پانی، ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریاں یا چوہے کی وجہ نہیں ہیں۔ بچوں کی طبی جانچ سے معلوم ہوا کہ موت کے سبھی معاملوں میں کولڈ ریف کھا نسی سیرپ کا استعمال عام تھا۔اس سلسلے میں گرفتار کئے گئے ڈاکٹر سونی سے تفصیلی پوچھ تاچھ جاری ہے۔ مزید یہ کہ کمپنی کے دیگر اہلکاروں اور طبی عملے کے خلاف بھی تحقیقات متوقع ہیں۔