مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کی پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں مندروں کی تعمیر پر پابندی

   

جبل پور: مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے پیر کو ریاست کے مختلف تھانوں کے احاطے میں مندروں کی تعمیر پر پابندی لگا دی اور حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ اس کیس میں درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ایس کے کیٹ اور جسٹس وویک جین کی ڈویڑن بنچ نے بھی ڈی جی پی اور دیگر کو مدھیہ پردیش میں تھانوں کے احاطے میں مندروں کی تعمیر کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نوٹس جاری کیا۔ ہائی کورٹ کے تفصیلی حکم کا انتظار ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور وکیل اوم پرکاش یادو نے تھانے کے احاطے میں مندروں کی تعمیر کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔ یادو کے وکیل ستیش ورما نے یہ معلومات صحافیوں کو دیں۔ ورما نے دلیل دی کہ کھلی جگہیں جہاں یہ مندر تعمیر کیے جا رہے ہیں وہ عوامی مقامات ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ حکم کا حوالہ دیا جس میں عوامی مقامات پر مذہبی ڈھانچے کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ورما کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں مدھیہ پردیش کے تھانے کے احاطے میں مندروں کی تعمیر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئینی دفعات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ تھانوں میں مندر پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں۔