مذہب اور ذات پات کے نام پر ملک تقسیم کرنے کی سازش سے چوکس رہیں

   

چیف منسٹر کے سی آر کی عوام سے اپیل، اتحاد میں ترقی ممکن، میڑچل میں کلکٹریٹ عمارت کے افتتاح کے بعد جلسہ سے خطاب
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کی سازش سے چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت کے ماحول کو ہوا دی جارہی ہے لیکن یہ طاقتیں اس بات سے واقف نہیں کہ جب عوام کے جذبات مشتعل ہوجائیں تو پھر ان پر قابو پانا آسان نہیں لہذا ملک کو مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہوکر ترقی کی سمت گامزن کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر آج میڑچل ملکاجگیری ضلع میں نوتعمیر شدہ ضلع کلکٹریٹ کی عمارت کے افتتاح کے بعد خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چین، سنگاپور اور کوریا میں مذہب سے بالاتر ہوکر ترقی پر توجہ دی جاتی ہے اسی طرح ہندوستان کو بھی ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے ثمرات ہر شخص تک اسی وقت پہنچ پائیں گے جب عوام مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہوکر متحد رہیں۔ چیف منسٹر نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام کو ملک کی صورتحال کے بارے میں چوکس رہنا چاہیئے۔ تلنگانہ میں ترقی اور فلاح و بہبودکی اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی کوئی بھی ریاست فلاحی اسکیمات میں تلنگانہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ملک اور تلنگانہ کی ترقی کے بارے میں عوام کو ہر گاؤں میں مباحث کے ذریعہ جائزہ لینا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر علحدہ تلنگانہ تشکیل نہ پاتا تو علاقہ تلنگانہ پسماندگی کا بدستور شکار رہتا۔ 36 لاکھ افراد کو حکومت آسرا پنشن فراہم کررہی ہے اور مزید 10 لاکھ کا اضافہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں پنشنرس کی تعداد بڑھ کر 46 لاکھ ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں برقی کا بحران تھا لیکن آج تلنگانہ برقی بحران سے نجات پاچکا ہے۔ حیدرآباد میں برقی کی کوئی کٹوتی نہیں ہے جبکہ دہلی میں برقی سربراہی کا موقف ابھی تک بہتر نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں 24 گھنٹے معیاری برقی ہر شعبہ کو سربراہ کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ابھی تک 11 لاکھ غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی میں مدد کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد اور اطراف کے اسمبلی حلقہ جات میں تیزی سے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ 7 اسمبلی حلقہ جات کیلئے 5 کروڑ روپئے فی کس ترقیاتی فنڈ کے طور پر جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اسمبلی حلقہ کیلئے مزید 10 کروڑ روپئے منظور کئے جائیں گے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران سرکاری ملازمین سے جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کی گئی۔ تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ملک کی کسی بھی ریاست سے زیادہ ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت گردہ کے عارضہ کا شکار افراد کو بھی پنشن فراہم کررہی ہے۔ ہر خاندان میں فی کس 6 کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے۔ کے سی آر نے معاشی شعبہ میں تلنگانہ کی ترقی اور بنیادی تعلیم سے پوسٹ گریجویشن تک معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے اقامتی اسکولس اور کالجس کے قیام کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے ترقی کے معاملہ میں دیگر ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجہ میں ممبئی اور دبئی کو ورکرس اور پروفیشنلس کی منتقلی رک گئی ہے۔ تلنگانہ میں دیگر ریاستوں کے 25 تا 30لاکھ افراد روزگار حاصل کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی ترقی میں حکومت سے تعاون کریں۔ ملکاجگیری پہنچنے پر چیف منسٹر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے کلکٹریٹ کی نئی عمارت کا معائنہ کیا۔ ریاستی وزراء ایم ملا ریڈی، پرشانت ریڈی، نائب صدرنشین پلاننگ بورڈ ونود کمار، رکن راجیہ سبھا دامودر راؤ، ارکان مقننہ اور اعلیٰ عہدیداروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ر