یہ مناسب تو نہ تھا نم گلستاں کیلئے
جل گئے کتنے ہی گھر جشن چراغاں کیلئے
ہندوستان دنیا کا ایک بڑا ملک ہے ۔ بہت تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں اس کا شکار ہو رہا ہے ۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔ اب دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہو ئی معیشت بھی اسے کہا جا رہا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہندوستان کا شمار ہونے لگا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں مذہب کے نام پر عوام کا ٹھوک کے بھاؤ میں استحصال سب سے آسان اور سب سے کامیاب کاروبار بن گیا ہے ۔ ملک کی سیاسی جماعتیں اکثر و بیشتر عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ان کو گمراہ کرتی رہی ہیں اور اپنی سیاسی دوکانیں چمکاتی رہی ہیں۔ کبھی رام مندر کے نام پر تو کبھی ‘ کرشنا جینتی کے نام پر تو کبھی کسی مندر کی تعمیر کے نام پر تو کبھی کسی مسجد کے انہدام کے نام پر ‘ کبھی کسی پوجا کے نام پر تو کبھی کسی کی آستھا کے نام پر عوام کا مسلسل استحصال کیا جاتا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین اور وزراء وغیرہ بھی اب اسی روش پر عمل کرنے لگے ہیں۔ انہیں یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ پانچ سال تک وہ مسلسل عوام کو لوٹیں ‘ انہیں گمراہ کیا جائے ‘ انہیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا جائے ‘ انہیں کہیں کا نہ چھوڑا جائے ۔ انہیں مقروض کردیا جائے ‘ ان کی زمین چھین لی جائے ‘ ان کے مکان چھین لئے جائیں ‘ ان کے سر سے سائبان چھینا جائے ‘ بچوں کی تعلیم کے نام پر اخراجات عائد کئے جائیں ‘ علاج کو مہنگا کردیا جائے ‘ حد تو یہ ہے کہ بجلی اور پانی کیلئے بھی عوام سے ٹیکس لیا جائے ‘ لوگ کمائی کرنے لگیں تو ان سے ٹیکس لیا جائے ‘ جب وہ خرچ کرنے جائیں تو ان پر ٹیکس عائد کیا جائے ‘ ان کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا جائے لیکن جب انتخابات کا وقت قریب آجائے تو پھر فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا دیا جائے ۔ سماج میں نفرت کا بیج بو دیا جائے ۔ ہندو کو مسلمان کے نام سے بھڑکایا جائے اور مسلمان کو ہندو کے نام سے خوفزدہ کیا جائے اور پھر اپنے سیاسی دوکان چمکالی جائے ۔ کبھی کسی مذہبی جلوس کا استحصال کرتے ہوئے حالات کو بگاڑا جاتا ہے تو کبھی اشتعال انگیز نعرہ لگاتے ہوئے ایک مخصوص طبقہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ دوکان بہر حال چلتی رہی ۔
حالیہ عرصہ میں خاص طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی کسی ذمہ دار شخصیت سے یا وزیر سے یا سیاسی جماعت کے ترجمان سے حکومت کی کارکردگی یا سیاسی جماعت کے موقف کے تعلق سے سوال کیا جاتا ہے تو اس کا جواب دینے کی بجائے اس کو مذہبی رنگ دینے پر زیادہ اصرار کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کسی مذہبی جلوس میں ہتھیار کیوں رکھے جاتے ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ کیا جلوس پاکستان میں نکالا جائے ؟ ۔ سوال کی نوعیت کو ہی تبدیل کردیا جاتا ہے اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ زندگی کے ہر مسئلہ کو مذہب کی عینک سے دیکھا جائے ۔ عوام کو بھی مذہبی تعصب کا شکار کرتے ہوئے وہی کچھ سمجھایا جائے جو سیاسی جماعتوں اورقائدین یا حکومتوں کیلئے سہولت بخش اور ان کے مفاد میں ہو۔ اب ملک میں بیروزگار سیاستدانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور عوام کی جانب سے انہیں بار بار مسترد کیا جاچکا ہے ۔ ایسے قائدین بھی ایک عرصہ تک ریسرچ کرنے اور عوام کے موڈ اور نبض کا جائزہ لینے کے بعد کچھ بھی کرنے کے موقف میں نہیں رہتے تو وہ بھی مذہبی راگ الاپنے لگتے ہیں۔ کبھی خود کوئی نعرہ لگانے کا دعوی کرتے ہیں تو کبھی دوسروں کے نعروں پر اعتراض کیا جاتا ہے ۔ اب مساجد سے اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو موضوع بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے جواب میں ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کرتے ہوئے اشتعال انگیز بیانات دئے جا رہے ہیں۔ یہ سارا کچھ محض اس لئے ہے کہ سیاسی عمل میں خود کے وجود کو منوایا جائے ۔
حقیقت میں سیاسی قائدین ہوں یا پھر حکومت کے نمائندے ہوں کسی کو بھی اس بات کی فکر نہیں ہے کہ ملک کے عوام کی حالت کیا ہو تی جا رہی ہے ۔ مہنگائی نے عوام پر کس حد تک بوجھ عائد کردیا ہے ۔ پٹرول قیمتوں پر عوام کو کس طرح سے لوٹا جا رہا ہے ۔ ماچس کی خریدی سے لے کر پٹرول پر عوام کو محض ٹیکس وصول کرنے کی مشین بنادیا ہے گیا ہے ۔ لیکن انہیں مذہب کی بحث میں الجھا کر اپنے مفادات کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ خود سیاسی قائدین کو مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کہاں اسپیکر پر اذان دی جا رہی ہے یا کہاں ہنومان چالیسا گایا جارہا ہے ۔ انہیںصرف اپنے مفاد کی اور اپنے ووٹوں کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ انہیں کسی بھی حال میں خود کو عوام کے درمیان رکھنا ہوتا ہے ۔ عوام کو اس صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ایسے قائدین کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے ۔
سری لنکا ‘ چھوٹی معیشتوں کیلئے نوشتہ دیوار
سری لنکا میں جو معاشی بحران پیدا ہوا ہے اس نے وہاں کے عوام کیلئے جینا مشکل کردیا ہے ۔ عوام کو بنیادی ضروریات کی اشیا تک دستیاب نہیں ہو رہی ہیں۔ فیول کے حصول کیلئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ حکومت کی جانب سے سپلائی کو یقینی بنانے میںناکامی کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ملک میں بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہوگئے ہیں اسی لئے بیرونی ممالک کے قرضہ جات کی ادائیگی بھی ممکن نہیں رہ گئی ہے ۔ سری لنکا میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے جو بھی عوامل رہے ہوں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہاں کی صورتحال دوسری چھوٹی معیشتوں کیلئے بھی نوشتہ دیوار ہے ۔ دیگر ممالک میں بھی اس طرح کی صورتحال کے پیدا ہونے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ نیپال میں بھی وہی حالات پیدا ہوسکتے ہیں جو سری لنکا میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ وہاں بھی بجلی پیدا کرنے والے سب اسٹیشنوں کیلئے ایندھن کا حصول مشکل ہوگیا ہے ۔ کئی کئی گھنٹے بجلی کٹوتی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ حکومت بھی حالات سے نمٹنے میں مشکلات کا عذر پیش کر رہی ہے ۔ پاکستان کی معیشت بھی مشکل حالات کا شکار ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو دنیا کی دوسری چھوٹی معیشتوں کیلئے نوشتہ دیوار بن گئی ہے ۔ اگر یہ حکومتیں اور معیشتیں فوری طور پر حالات کو بہتر بنانے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار نہیں کرتیں تو صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتی ہے ۔ جو مشکلات اور پریشانیاںسری لنکا کے عوام کو درپیش ہیں وہ دوسرے ممالک کو بھی درپیش ہوسکتی ہیں۔ خود ان ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔