حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) رحمت بیگ محض صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی کے لئے ہی نہیں بلکہ جماعت اورشہر کے سرکردہ تاجرین و سرمایہ کاروں کے لئے بھی ’’زحمت ‘‘ بن چکے ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ کی مجلس سے برطرفی و اخراج کے فیصلہ کے ساتھ ہی نہ صرف پارٹی حلقوں میں بلکہ سرکردہ شخصیات بالخصوص نوجوان تاجرین و سرمایہ کاروں میں بھی ہلچل پیدا ہوگئی تھی لیکن سب کا یہ احساس تھا کہ بیرسٹراسدالدین اویسی کی ’آنکھ ‘ کان ‘ ناک‘ کی حیثیت رکھنے والے انتہائی بااعتماد رفیق مرزارحمت بیگ کبھی جماعت کے خلاف یا صدر کی ہدایت پر عمل نہ کرنے سے متعلق خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے اسی لئے ان کے ساتھ شہر کے سرکردہ تاجرین و سرمایہ کاروں نے ایسے تعلقات استوار کئے ہوئے تھے کہ وہ بھی اب ’صدر‘ کی طرح ’رحمت‘ کو تلاش رہے ہیں بلکہ مجلسی اراکین اسمبلی ‘ کارپوریٹرس کے علاوہ کارکنوں نے بھی اس ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر لے لیا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ تاجرین و سرکردہ افراد و شخصیات اپنی معاملتوں کے حل کو یقینی بنانے کی کوشش میں برطرف کردہ رکن قانون ساز کونسل کی تلاش میں مصروف ہیں۔’جماعت‘ کے سرکردہ و اہم قائدین نے تاجرین و سرکردہ شخصیات پر واضح کردیا کہ ’مرزارحمت بیگ‘ کی ذاتی معاملتوں سے ’جماعت‘ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور جماعت نے ’رحمت بیگ‘ کو پارٹی سے خارج کرتے ہوئے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے اور انہیں اس بات کی بھی ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنا مکتوب استعفیٰ پیش کردیں لیکن رحمت بیگ نے صدر مجلس کی ہدایت کو نظرانداز کردیا اور تین یوم سے وہ کسی کے رابطہ میں نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق صدر مجلس سے رحمت بیگ کے گہرے تعلقات اور وفاشعاری کو دیکھتے ہوئے کئی تاجرین نے رحمت بیگ پر اسی طرح اعتماد کیا ہے جس طرح وہ ’صدر مجلس‘ پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اب ان کے اعتماد کو پہنچنے والی ٹھیس سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور اس بات کی شکایت ’صدرصاحب‘ سے کرنے سے بھی قاصر ہیں لیکن انہیں یہ پیغام دے دیا گیا ہے اگر کسی کی رحمت بیگ سے کوئی شخصی معاملتیں ہیں تو اس کا ’جماعت ‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تجارتی تعلقات استوار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کئی معاملتوں اور لین دین میں ’رحمت‘ کی راست موجودگی کے نتیجہ میں کئی سرمایہ کاروں نے ان پر اس حد تک اعتماد کرلیا تھا کہ وہ کسی بھی معاملت کی پیشکش کرتے تو کوئی بھی انکار نہیں کرتا بلکہ دیگر حصہ داروں کو راغب کروانے کے اقدامات کرتے ہوئے اور لوگوں کو بھی معاملت میں شامل کیا جاتا تھا۔3