تلنگانہ حکومت معیار، مقدار اور باقاعدگی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ہریش راؤ کا دعویٰ
حیدرآباد۔/29 ستمبر، (سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے مرکزی وزراء کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسکیمات کی دہلی میں مرکزی وزراء ستائش کررہے ہیں تلنگانہ کو پہنچ کر ان کی مخالفت کررہے ہیں۔ ایک طرف ایوارڈس دیئے جارہے ہیں دوسری طرف بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرنا مضحکہ خیز ہے۔ ایرہ منزل کے مشن بھگیرتا آفس میں ریاستی وزیر دیہی ترقیات ای دیاکر راؤ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 15 ویں فینانس کمیشن کی رپورٹ کو مرکزی حکومت نے کچرے دان کی نذر کردیا ہے۔ تلنگانہ میں سیاست کرنا ہے تو پہلے مرکزی وزراء فنڈز جاری کروائیں پھر اپنے اعتراضات و تنقیدوں کی بوچھار کریں۔ انہوں نے مشن بھگیرتا کو قومی ایوارڈ ملنے پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں سرپنچس کا کام صرف بورویلز کو درست کرنے تک محدود تھا لیکن ٹی آر ایس کے 8 سالہ دور حکومت میں پانی اور برقی کے کوئی مسائل نہیں ہیں۔ پدیاترا، سیکل یاترا اور گھٹنوں کے بل یاترا کرنے والوں کو عوام ہی سبق سکھائیں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت معیار، مقدار اور باقاعدگی پر خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ سارا ملک تلنگانہ ماڈل کی طرف دکھ رہا ہے۔ مشن بھگیرتا اسکیم سارے ملک کیلئے ایک مثالی اسکیم میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ملک کے 50 فیصد عوام کو اب بھی پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ واحد ریاست ہے جو صد فیصد پینے کا پانی سربراہ کرتی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ 2014 تک 5 ہزار 6 سو خاندانوں کو پانی دستیاب ہوا کرتا تھا لیکن 8 سال میں یہ تعداد بڑھ کر 23 ہزار 9 سو خاندانوں کو پینے کا پانی دستیاب ہورہا ہے۔ن