مرکز کے فیصلے کے بعد 2000 کے نوٹ قبول کرنے سے تاجرین کا گریز

   

صرف پٹرول پمپس پر ادائیگی جاری ۔ 30 ستمبر تک نوٹوں کا چلن برقرار ۔ ریزرو بینک کی وضاحت

حیدرآباد۔21۔مئی ۔ (سیاست نیوز) ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک میں 2000 کے کرنسی نوٹ کی اجرائی بند کرنے اور بازار میں موجود 6لاکھ 50ہزار کروڑ کے 2000 کے کرنسی نوٹ کو 30 ستمبرتک واپس لینے کے فیصلہ کے ساتھ ہی عام تاجرین نے ان کو قبول کرنا بند کردیا ہے جبکہ ریزرو بینک نے واضح کیا ہے کہ 30 ستمبر تک یہ کرنسی نوٹ قابل استعمال رہیں گے ۔ ریزرو بینک کے اعلان کے باوجود کئی سرکردہ ہوٹلوں ‘ بار ریستوراں کے علاوہ تجارتی اداروں نے 2000 کے کرنسی نوٹ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرکے اپنے گاہکوں کیلئے اطلاع چسپاں کردی اور تکلیف کیلئے معذرت خواہی کرتے ہوئے 2000 کے کرنسی نوٹ قبول نہ کرنے کے فیصلہ سے واقف کروایا۔ ریزرو بینک کے اعلامیہ کے مطابق جن کے پاس 2000کے کرنسی نوٹ موجود ہیں وہ بینک میں جمع کرواسکتے ہیں اور اگر کوئی تبدیل کروانا چاہے تو اسے بہ ایک وقت 20000روپئے یعنی 10نوٹوں کی تبدیلی کا اختیار رہے گا۔ ریستوراں اور دیگر مقامات پر 2000 کے کرنسی نوٹ وصول نہ کئے جانے کی اطلاعات کے باوجود تاحال کسی بھی محکمہ یا ادارہ کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ ریزرو بینک کے علاوہ صارفین فورم اور پولیس کی جانب سے بھی 2000 کے نوٹ قبول نہ کئے جانے کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے اور اگر کوئی 2000کے کرنسی نوٹ قبول نہیں کرتا ہے تو اسے قانونی رسہ کشی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے تاجرین کا کہناہے کہ ریزرو بینک کے فیصلہ کے فوری بعد 2000کے کرنسی نوٹوں کے چلن میں یوں تو کوئی اضافہ نہیں دیکھا جارہا ہے لیکن جن لوگوں کے پاس 2000کے کرنسی نوٹ ہیں وہ ان کے ممکنہ استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہر کے پٹرول پمپس پر 2000 کے کرنسی نوٹ وصول کئے جا رہے ہیں اور لوگ اپنے پاس موجود 2000 کے کرنسی نوٹ پٹرول اور ڈیزل کی خریدی کیلئے ادا کرنے لگے ہیں۔ عام شہریوں بالخصوص متوسط طبقہ کے پاس اب 2000 کے کرنسی نوٹ ہی موجود نہیں ہیں اسی لئے 2000 کے کرنسی نوٹوں کے واپس لئے جانے کے اعلان کے باوجود کوئی شدید عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوام میں کسی قسم کی پریشانی دیکھی جا رہی ہے۔
تلنگانہ میں شراب کی اسمگلنگ روکنے مؤثر اقدامات کئے جائیں، ڈائرکٹر جنرل پولیس
حیدرآباد 21 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل پولیس انجنی کمار نے ریاستی پولیس اکسائز ریلویز اور ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں سے کہاکہ وہ سرحدی اور شمالی ریاستوں سے تلنگانہ میں شراب کی اسمگلنگ روکنے کے لئے اقدامات کریں۔ سی آئی ڈی کے اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل مہیش بھاگوت نے بتایا کہ 2014 ء سے اب تک تلنگانہ میں شراب کی غیرقانونی منتقلی کے 27 ہزار 883 کیسیس درج کئے گئے ہیں۔