مسلمانوں کی ترقی اور انہیں قریب کرنے مودی اور بی جے پی کے دعوے کھوکھلے
حیدرآباد۔یکم۔فروری(سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی قائدین انتخابات کے پیش نظر مسلمانوں کو پارٹی سے قریب کرنے کے لئے پسماندہ مسلمان اور ان کے مسائل کے حل کی بات کر رہے ہیں لیکن عملی طور پر جب بجٹ میں اقلیتوں کو ان کے حصہ داری کا موقع آیا تو مرکزی حکومت کی جانب سے مرکزی وزارت اقلیتی امور کیلئے محض 3097کروڑ روپئے کی تخصیص کے ذریعہ یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کسی بھی صورت میں مسلم پسماندہ طبقات کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کے حق میں نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ’سب کا ساتھ ‘ سب کا وکاس‘ کے نعرہ کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے ساتھ سب کا وشواس کا بھی نعرہ دیا لیکن جب اقلیتوں کا وشواس(اعتماد ) حاصل کرنے کی بات آئی تو انہیں بری طرح سے نظرانداز کردیا گیا بلکہ مجموعی طور پر اقلیتی بجٹ میں 38 فیصد کی کمی کے ذریعہ انہیں محروم کرنے کی منظم کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ میں سال گذشتہ 2022-23کے دوران وزارت اقلیتی امور کے لئے 5020 کروڑ روپئے کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی لیکن جاریہ سال اس میں 38 فیصد کی کٹوتی کرتے ہوئے محض 3097 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے۔ حکومت نے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے چلائی جانے والی مسابقتی امتحانات کی تیاری کی اسکیم کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ اقلیتوں کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لئے فراہم کی جانے والی تربیت کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی جبکہ وزارت اقلیتی امور کے عہدیداروں کے مطابق اس اسکیم کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب اس اسکیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ برسراقتدار جماعت کی جانب سے مسلمانوں کی دلجوئی اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے علاوہ ملک گیر سطح پر یہ باور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کی دشمن نہیں ہے لیکن بجٹ 2023-24 میں اقلیتوں کے لئے کی گئی بجٹ کی تخصیص کا جائزہ لینے کے بعد خود بی جے پی کے اقلیتی قائدین حیرت زدہ ہیں کہ بجٹ میں تمام طبقات کو مناسب حصہ داری فراہم کی گئی ہے لیکن اقلیتی طبقہ کے ساتھ کی گئی ناانصافی عوام بالخصوص اقلیتی طبقات کے درمیان جانے میں ان کے لئے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ م