مرکزی وزارت داخلہ کی اڈوائزری کے بعد بنگلورو میںدھماکہ !!

   

حیدرآباد یکم مارچ (سیاست نیوز) مرکزی وزارت داخلہ نے 4یوم قبل تمام ریاستوں کو روانہ رہنماخطوط میں تاکید کی تھی کہ وہ ان کی ریاست میں کسی بھی دھماکہ کی فوری مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کواطلاع دیں اور ان سے مدد حاصل کریں اور انہیں دھماکہ کی تحقیقات میں تعاون کیلئے اپیل روانہ کریں۔مرکزی حکومت کے ان رہنماخطوط کے اندرون 5یوم بنگلورو رامیشورم کیفے میں دھماکہ کے بعد کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور بعض گوشوں سے بنگلورو دھماکہ کو دہشت گردانہ کاروائی قرار دیا جانے لگا ہے۔ کرناٹک میں جہاں کانگریس حکومت ہے اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 20سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے ایسے میں رامیشورم کیفے میں دھماکہ کو سیاسی طور پر بھی دیکھا جارہا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ 4یوم قبل وزارت داخلہ کی اڈوائزری اور اب دھماکہ ناقابل فہم ہے۔ہندستان میں مختلف مقامات بالخصوص مکہ مسجد‘ درگاہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ ‘ سمجھوتہ ایکسپریس و دیگر مقامات پر دھماکوں میں ملوث افراد سے تعلق رکھنے والی پرگیہ سنگھ ٹھاکر جو بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہیں اور یہ تمام دھماکے ملک میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے قبل ہوئے تھے اور بی جے پی اقتدار کے بعد گذشتہ انتخابات سے عین قبل پلوامہ کے علاوہ کوئی بڑی دہشت گردانہ کاروائی نہیں ہوئی لیکن اب اچانک محکمہ داخلہ سے رہنماخطوط کی اجرائی اور اس کے اندرون 5یوم کانگریس اقتدار والی ریاست میں دھماکہ کئی شبہات پیدا کرنے لگا ہے۔ اس دھماکہ سے دو دن قبل زیر بحث موضوعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو نومنتخبہ رکن راجیہ سبھا جناب ناصر حسین کی کامیابی کے موقع پر ’پاکستان زندہ آباد‘ کے نعرے لگائے جانے کا پروپگنڈہ کیاگیا جسے چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا نے فوری ختم کرکے اعلان کیا کہ ان نعروں کی ویڈیو کی فارنسک جانچ کرواتے ہوئے کاروائی کی جائے گی۔3