مرکزی وزیر کی دختر کو مہاراشٹرا میں جنسی ہراسانی کا سامنا

   

بی جے پی حکومت میں خواتین کے تحفظ پر سوال، 6 ملزمین کی شناخت، ایک گرفتار
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) ملک میں خواتین پر مظالم کے بڑھتے واقعات پر مرکزی حکومت کی بے حسی کے نتیجہ میں مہاراشٹرا میں مرکزی وزیر کی دختر کو بھی اشرار نے ہراسانی کا شکار بنایا ہے۔ مرکزی وزیر رکھشا کھڈسے کی دختر کو مہاراشٹرا کے جل گاؤں میں مہا شیوراتری میلے کے موقع پر اشرار کی جانب سے جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا۔ اِس واقعہ نے بی جے پی زیراقتدار مہاراشٹرا میں امن و ضبط کی صورتحال اور خواتین کے تحفظ پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ پولیس نے اِس واقعہ کے سلسلہ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جبکہ 6 دوسرے ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اشرار نے مہا شیوراتری میلے میں مرکزی وزیر کی دختر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور اُن کی اور اُن کی سہلیوں کی تصاویر لینے کی کوشش کی۔ مرکزی وزیر نے اپنی دختر، حامیوں اور پارٹی ورکرس کے ساتھ پہونچ کر پولیس میں شکایت درج کرائی اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ میں ایک وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ماں کے طور پر بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے پہونچی ہوں۔ جلگاؤں کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشناتھ پنگلے نے 28 فبروری کو کوتھالی گاؤں میں پیش آئے اِس واقعہ کی تصدیق کی۔ ملزمین کی انکت بھوئی، کویوش مورے، شام کولی، انوج پاٹل، کرن مالی اور سچن پلوی کی حیثیت سے شناخت کی گئی جنھوں نے میلے میں کم از کم 4 لڑکیوں کو ہراساں کیا تھا۔ پولیس نے پوسکو قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا اور باقی کی تلاش جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر کی دختر کے ساتھ موجود سکیورٹی گارڈ کی ملزمین کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی۔ پولیس عہدیدار نے کہاکہ ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر کے سلسلہ میں آئی ٹی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ 1