مرکز کے اسپانسرڈ اسکیمات کے تحت 19,760 کروڑ 15 ویں فینانس کمیشن گرانٹ 3200 کروڑ
حیدرآباد ۔ 3 فبروری (سیاست نیوز) مرکزی ٹیس حصہ کے طور پر تلنگانہ کو 25,639 کروڑ روپئے حاصل ہوں گے۔ جاریہ مالیاتی سال (2023-24) میں ٹیکس حصہ کے طور پر ریاست کو 23,400 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جس میں اس مربتہ مزید 2,239 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مرکز کے اسپانسرڈ اسکیمات کے تحت ریاست کو 19,760.59 کروڑ روپئے حاصل ہوں گے۔ تلنگانہ ریاست کے توقع کے مطابق دیگر گرانٹس کا بجٹ میں ذکر نہیں ہے۔ 15 ویں فینانس کمیشن کی سفارشات کے مطابق بلدیات کو گرانٹ کے تحت مزید 3200 کروڑ روپئے حاصل ہوں گے۔ ان تین بڑے ہیڈس کے علاوہ ریاست کو کوئی قابل ذکر رقم مختص نہیں کی گئی۔ دراصل ریاستی حکومت نے اس مرتبہ مرکز کے سامنے کئی مطالبات پیش کئے تھے۔ پالمور، رنگاریڈی پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے، قاضی پیٹ ریلوے کوچ فیکٹری، بیارم اسٹیل پلانٹ کو فنڈز مختص کرنے، پسماندہ علاقوں کے ترقیاتی فنڈس کے تحت تین سال کے 1800 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حیدرآباد، ناگپور انڈسٹریل کوریڈور کو منظوری دینے کی بھی نمائندگی کی گئی تھی۔ اگر منظوری دی جاتی تو تلنگانہ کو 2300 کروڑ روپئے جاری ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ موسیٰ ندی کی ترقی، میٹرو ریل کے دوسرے مرحلے کی وسیع کیلئے فنڈز کی اجرائی، انسداد منشیات بیورو کے استحکام کیلئے 88 کروڑ روپئے کے اضافی فنڈز طلب کئے گئے۔ سائبر سیکوریٹی بیورو کے استحکام کیلئے 90 کروڑ روپئے اضافہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ عبوری بجٹ میں ان امور کیلئے بجٹ کی اجرائی کے تعلق سے کوئی بھروسہ نہیں دلایا گیا ہے۔ تاہم عہدیدار امید کررہے ہیکہ لوک سبھا انتخابات کے بعد پیش کئے جانے والے مکمل بجٹ میں تلنگانہ کو مزید فنڈز مختص کئے جائیں گے۔2