پریاگ راج :الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر لگانے کو آئین کے تحت بنیادی حق قرار دیا گیا ہے ۔ہائی کورٹ کے جسٹس وویک کمار برلا اور جسٹس وکاس کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا آئین میں دیے گئے بنیادی حق کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اذان اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اسلام کا حصہ نہیں ہے ۔درخواست گزار عرفان نے ہائی کورٹ میں یہ عرضی داخل کرتے ہوئے گزشتہ سال 3 دسمبر کو بدایون کے ڈپٹی کلکٹر (ایس ڈی ایم) کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں انہوں نے ضلع کے دھورن پور گاؤں میں واقع نوری مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ . درخواست گزار نے دلیل دی کہ ایس ڈی ایم کا حکم ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے ، اس لیے یہ حکم غیر قانونی ہے ۔
کرناٹک میں 9 مئی کو اذان کیخلاف بھجن ہوگا
بیلگاوی :شری رام سینا کے بانی پرمود متھالک نے کہا ہے کہ ریاست میں اذان کے خلاف 9 مئی کی صبح 5 بجے ہزاروں مندروں کے اندر اومکار، بھجن، سپربھات اور ہنومان چالیسا پڑھے جائیں گے ۔مسٹر متھالک نے یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شری رام سینا مسلسل اذان کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہے اور یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔ ہم نے تحصیلداروں اور ضلع مجسٹریٹ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کوئی کارروائی نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو ہم اومکار، بھجن اور ہنومان چالیسا پڑھیں گے ۔ اس سلسلے میں تمام ہندو تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو جدوجہد تیز ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مساجد میں نصب لاؤڈ سپیکر کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی سے بھی ہمت کرکے لاؤڈ اسپیکر کو بند کرنے کی اپیل کی۔