مسلسل دوسرے دن کانگریس ارکان اسمبلی کو کالیشورم پراجکٹ جانے سے روک دیا گیا

   

بھٹی وکرامارکا اور دیگر ارکان گرفتار، صورتحال کشیدہ، کارکنوں کا راستہ روکو احتجاج
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس ارکان مقننہ کو کالیشورم پراجکٹ کے دورہ سے روکنے کیلئے آج دوسری مرتبہ انہیں حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے کل پہلے دن کتہ گوڑم ضلع میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، ارکان مقننہ جیون ریڈی، سریدھر بابو، سیتکا اور ٹی ویریا کو حراست میں لے لیا تھا۔ آج دوسرے دن کانگریس ارکان مقننہ نے کتہ گوڑم ضلع سے کالیشورم پراجکٹ کیلئے روانہ ہونے کی کوشش کی۔ ملگ علاقہ میں کانگریس قائدین کا کارکنوں اور عوام کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔ پولیس نے ملگ میں کانگریس قائدین کو روکنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ارکان اسمبلی کالیشورم کیلئے روانہ ہوئے تاہم بھوپال پلی میں انہیں روک دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ پراجکٹ کے دورہ کیلئے اجازت حاصل نہیں کی گئی۔ ڈی ایس پی راملو اور کانگریس ارکان اسمبلی کے درمیان بحث و تکرار ہوئی۔ کانگریس قائدین نے پراجکٹ کے دورہ سے روکنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ارکان اسمبلی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ پولیس نے پراجکٹ کے اطراف دفعہ 144 نافذ کردیا ہے۔ بھوپال پلی میں امتناعی احکام نافذ کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا اور دیگر قائدین کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتاری سے قبل کانگریس قائدین نے سڑک پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا اور پولیس کے ساتھ کارکنوں کی بحث و تکرار ہوگئی۔ کانگریس کارکنوں نے راستہ روکو احتجاج منظم کرتے ہوئے گرفتاریوں کو روکنے کی کوشش کی۔ کافی دیر تک کانگریس قائدین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی آخر کار پولیس نے حراست میں لے کر گھن پور اسٹیشن منتقل کردیا۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ارکان مقننہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ر