ممبئی: مسلم ایمبولینس سوسائٹی کی شکل میں ایک مسلم ادارہ اپنے صدی سال میں مزید مضبوط ہونے کی راہ پرگامزن ہے ۔1932 میں جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقہ محمد علی روڈ میں چکلا اسٹریٹ پر ایک چھوٹی سی دکان میں مسلم ایمبولینس سوسائٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس عظیم مقصد کاایک ہی مقصد ہے کہ غریب اور نادار افراد کو ذات پات، عقیدہ اور مذہب کی تفریق کے بغیر انسانی اور طبی فلاحی خدمات فراہم کی جائے ۔ مسلم ایمبولینس سوسائٹی کی ایک بھرپور تاریخ ہے اور یہ بمبئی سے ممبئی میں تبدیلی کا گواہ ہے اورگزشتہ نوعشرے میں کئی اہم ترین واقعات دیکھے گئے ہیں۔ چاہے وہ قدرتی آفات ہو یا انسان ساختہ آفات یاکوویڈ19وبائی بیماری، مسلم ایمبولینس سوسائٹی ہمیشہ میدان میں رہی ہے ۔ اپنے قیام کے ایک سال بعد،سب سے پہلے 1933 میں، مسلم ایمبولینس ڈویژن نے چوپاٹی پر گنپتی وسرجن تقریب کے دوران اپنی خدمات فراہم کیں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ، 1936 میں، بمبئی میں ہونے والے فسادات کے دوران، رضاکاروں کی طرف سے پہلا معاملہ بائیکلہ میں ریلوے کوارٹرز کے قریب زخمی ہونے والے ایک ہندو کا تھا۔