مسلم خواتین کی رائے دہی پر مادھوی لتا اور ڈی اروند کے رویہ کی مذمت

   

الیکشن کمیشن سے دونوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، کانگریس قائد ہنمنت راؤ کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/14 مئی، ( سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے بی جے پی لوک سبھا امیدواروں مادھوی لتا اور ڈی اروند کے خلاف کارروائی کیلئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا۔ ہنمنت راؤ نے دونوں بی جے پی امیدواروں کی جانب سے برقعہ پوش خواتین سے حجاب ہٹانے کی کوشش اور مسلم خواتین کی رائے دہی پر اعتراض جیسے واقعات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی امیدوار کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی رائے دہندہ سے اس کی شناخت کا ثبوت طلب کریں۔ اگر امیدوار کو کوئی شکایت ہو تو وہ اس سلسلہ میں پریسائیڈنگ آفیسر سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ پولیس عہدیداروں کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ رائے دہندوں سے شناختی ثبوت طلب کریں۔ نظام آباد اور حیدرآباد میں بی جے پی امیدواروں نے مسلم خواتین سے متعلق اپنے رویہ کے ذریعہ خواتین کی توہین کی ہے۔ بی جے پی امیدوار دراصل اپنی شکست کے خوف میں ہیں اور مسلم رائے دہندوں سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادھوی لتا اور ڈی اروند کو مسلم خواتین سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے بصورت دیگر الیکشن کمیشن ازخود کارروائی کرتے ہوئے دونوں کے خلاف مقدمات درج کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی امیدواروں نے پھر ایک بار اپنی مسلم دشمنی کا کھلا ثبوت پیش کیا ہے۔ حیدرآباد روایتی طور پر گنگا جمنی تہذیب کا مرکز ہے اور بی جے پی پُرامن ماحول کو بگاڑنا چاہتی ہے۔1