عادل آباد میں مولانا آزاد کی یوم پیدائش تقریب نظرانداز ، چیف منسٹر سے نمائندگی کا فیصلہ
عادل آباد ۔12 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکام جس میں ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقریب سرکاری سطح پر منانے کے احکام کو عادل آباد ضلع کلکٹر مسٹر راج رشی شاہ کی جانب سے نظرانداز کرنے پر اُن کے خلاف چیف منسٹر مسٹر ریونت سے رجوع ہونے اور تفصیلات سے واقف کرانے کی بات عادل آباد مجلس بلدیہ سابق نائب صدر مظہر رحمانی ، کانگریس پارٹی قائدین مستقر عادل آباد نے پریس کلب میں میڈیا سے مخاطب ہوکر بتائی ۔ انھوں نے عادل آباد ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر پر الزام عائد کیاکہ قومی سطح پر مولانا آزاد یوم پیدائش تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سرکاری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس تقریب کو سرکاری سطح پر منانے کے احکام جاری کئے تھے ۔ مولانا آزاد تقریب کے سرکاری سطح پر عادل آباد ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی جانب سے نطرانداز کرنے کے بنا پر عادل آباد کے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ کانگریس قائدین نے سرکاری عہدیداروں پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کی گنگا جمنی تہیذب کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان عہدیداروں کے خلاف ریاستی حکومت سے نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مولانا آزاد تقریب کے بارے میں ضلع کلکٹر سے وضاحت طلب کرنے پر انھوں نے کہاکہ وہ جامع سروے کے کام میں مصروف ہیں جبکہ یہ کام چند گھنٹوں کیلئے ملتوی کیا جاسکتا تھا ۔ کانگریس قائدین نے ضلع کلکٹر پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر قائدین کی تقاریب جوش و خروش کے ساتھ منایا کرتے ہیں ۔ مولانا آزاد جنھوں نے ملک کی آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے علاوہ ملک کے پہلے وزیرتعلیم تھے جنھوں نے تعلیم کو پروان چڑھانے کی خاطر کئی ایک اسکیم کو روبہ عمل لایا جس کے تحت تعلیمی نظام تاحال برقرار ہے ۔ مسلم رہنماؤں کے ساتھ تنگ نظر یہ رکھنے والے سرکاری عہدیداروں کے خلاف ریاستی حکومت سے نمائندگی کرنے کی بات کہی گئی ۔ مسٹرظہیر رمضان نے بی آر ایس پاٹی عادل آباد قائدین پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں سے ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے بی آر ایس قائدین مولانا آزاد تقریب منانے سے قاصر رہے ۔