مسلم طبقہ کو معاشی پسماندگی کے اعتبار سے تحفظات ناگزیر

   

بی سی ای زمرہ میں نام درج کروانے مسلمانوں سے مرزا قدوس بیگ مسلم لیگ کی اپیل

محبوب نگر /14 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مرزآ قدوس بیگ ریاستی سکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ نے اپنے صحافتی بیان میں مردم شماری کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے 14 طبقات جو پہلے سے ہی موجودہ ریاستی ریزرویشن کے دائرہ میں ہیں وہ بھی خانہ پری میں BC-E درج کروانے کی اپیل کے ساتھ ساتھ حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں میں فرقوں کی درجہ بندی معاشی پسماندگی کی بنیاد پر کی جائے نہ کہ نسلی اعتبار سے ۔ خاص طور پر مغل ، سید ، پٹھان، عرب و دیگر طبقات کو بھی معاشی پسماندگی اور دستور ہند کی آرٹیکل 15(4) اور 16(4) کے تحت ملک کے کسی بھی سیاسی معاشی ، سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گوپال سنگھ کمیشن ، سچر کمیٹی ، رنگناتھ کمیشن ، سدھیر کمیٹی نے مسلمانوں کو حد درجہ پسماندہ بتایا ہے بلکہ دیگر پسماندہ طبقات کے مقابل زیادہ پسماندہ بتایا ہے ۔ موجودہ ریزرویشن ہندو مذہب میں تلگو ناموں والی ذاتوں کو دیا جارہا ہے ۔ ان کے نام اس طرح ہیں چاکلی ، منگلی ، وڈلا ، کنارہ ، اسولا ، پدما ، سیالی ، کٹیکا ، بیستا اور موچی ، یہی نام اردو میں اس طرح ہیں ۔ دھوبی ، حجام ، بڑھائی ، لوہار ، سنار، بادندے ، درزی ، قصاب ، مچھیرے ، موچی وغیرہ جیسے مسلمان بھی ان روزگار سے جڑے ہوئے ہیں ۔ لیکن نسلی امتیاز کی وجہ سے تحفظات سے محروم ہیں۔