الٰہ آباد: الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ طلاق یافتہ مسلم خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سابق شوہر سے نہ صرف عدت کے دوران، بلکہ دوبارہ شادی اور شادی نہ کرنے کی صورت میں پوری زندگی گزارا بھتہ وصول کر سکتی ہے۔ کفالت کی رقم بھی ایسی ہونی چاہیے کہ وہ وہی زندگی گزار سکے جیسی طلاق سے پہلے گزار رہی تھی۔عدالت نے کہا کہ مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کے تحفظ) ایکٹ 1986 کی دفعہ 3(2) کے تحت طلاق یافتہ خاتون اپنے سابق شوہر سے کفالت کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ایس پی کیسروانی اور جسٹس ایم اے ایچ ادریسی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے زاہدہ خاتون کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے دیا ہے۔ڈیویژن بنچ نے پرنسپل جج فیملی کورٹ، غازی پور کے حکم کو ایک طرف رکھ دیا، جس میں صرف عدت کی مدت کے لیے بھتہ دینے کا حکم دیا گیا تھا،کورٹ نے اسے غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ عدالت نے یہ حکم قانونی دفعات اور شواہد کو درست طریقے سے دیکھے بغیر دیا ہے۔عدالت نے مجاز مجسٹریٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ ضابطے کے مطابق تین ماہ کے اندر مہر اور بھتہ کی وصولی کا حکم صادر کرے۔ سابق شوہر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی طلاق یافتہ بیوی کو ماہانہ 5000 روپے کی عبوری رقم ادا کرے۔زاہدہ خاتون اور نور الحق خان کی شادی 21 مئی 1989کو ہوئی تھی۔ شادی کے بعد شوہر کو پوسٹ آفس میں نوکری مل گئی۔اس نے 28 جون 2000 کو طلاق لے لی اور دو سال بعد دوبارہ شادی کی۔ جب کہ زاہدہ نے 10 ستمبر 2002 کو مسلم ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، جونیئر ڈیویژن، غازی پور کے سامنے ایک درخواست دائر کی۔ڈسٹرکٹ جج نے اسے فیملی کورٹ میں منتقل کر دیا۔ فیملی کورٹ نے عدت کی مدت تین ماہ، 13 دن، 1500 روپے ماہانہ اور عدت کے لیے 1001 روپے اور سامان کے لیے 5000 روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کو اپیل میں چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت میں سوال یہ تھا کہ کیا طلاق یافتہ مسلمان عورت عدت کے بعد بھی کفالت کی حقدار ہے؟ یہ بات بھی سامنے آئی کہ قرآن شریف بھی طلاق کے بعد شوہر کو بیوی کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ مسلم خواتین کے تحفظ کا قانون ایک فلاحی، انسانی حقوق کا تحفظ، صنفی سماجی انصاف کا قانون ہے۔ اس کی تشریح اسی طرز پرکی جانی چاہئے۔