مسلمان مرعوب اور مایوس ہوئے بغیر ملک میں دعوت دین کا فریضہ انجام دیں

   


جماعت اسلامی کا اجتماع عام ، پروفیسر خالد مبشر ، مفتی عبدالفتاح اور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد کا خطاب

حیدرآباد /6 نومبر ( پریس نوٹ ) ہندوستان میں مسلمان اس وقت انتہائی شدید ترین حالات سے گذر رہے ہیں ۔ لیکن انہیں یہ حقیقت اپنے سامنے رکھنی چاہئے کہ ملت پہلی مرتبہ ایسے دشوار اور نازک دور سے نہیں گذر رہی ہے ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کو سخت آزمائشوں کا شکار ہونا پڑا ۔ لیکن مسلمانوں نے ان کا مردانہ وار مقابلہ کرکے اپنا مقام اور مرتبہ حاصل کرلیا ۔ ضرورت ہے کہ مسلمان اس وقت بھی بے سمتی اور انتشار کا شکار ہوئے بغیر ایک نئے عزم اور حوصلہ کے ساتھ آگے برھتے ہوئے دعوت دین کو اپنی زندگی کا مشن بنالیں ۔ حالات کی سنگینی مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ خود اسلام پر عمل پیرا ہوجائیں اور برادران وطن تک اس کے پیغام کو پہنچائیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد خالد مبشر الظفر صدر شعبہ ترجمہ مانو و سکریٹری حلقہ شعبہ ایچ آر ڈی نے آج جماعت اسلامی ہند چارمینار کے زیر اہتمام سید مودودی لکچرر ہال ، چھتہ بازار میں منعقدہ اجتماع عام میں بعنوان ’’ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘‘ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1857 کی غدر میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے انتقام لیتے ہوئے انہیں تباہ و برباد کردیا تھا ۔ 1947 میں ہندوستان آزاد ہونے سے پہلے تقسیم ہوا تھا ۔ اس بٹوارے کی سزا بھی مسلمانوں کو بھگتنی پڑی اور آزاد ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی تھی ۔ لیکن مسلمان ہمت نہیں ہارے اور آج لاکھ مصیبیتوں کو سہنے کے باوجود مسلمان اپنے دین اور شریعت پر قائم ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمان مٹ نہیں سکتے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم نوجوانوں کو بے فکری ، بے صبری ، بے خبری اور بے علمی کے دلدل سے نکال کر ان میں فکر مندی ، دانشمندی اور علم و ہنر کا جوہر پیدا کریں ۔ مولانا مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی ، رکن جماعت اسلامی ہند چندرائن گٹہ و استاذ جامعتہ البنات ، سعیدآباد نے سورہ آل عمران کی 201 تا 204 آیات کا درس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی کی روش اختیار کرنے کی تاکید کی ہے اور اللہ کی رسی ( قرآن مجید ) کو مضبوطی سے تھام لینے کا حکم دیا ہے ۔ مسلمان قرآن کو اپنا رہنما بنالیتے ہیں تو دشمن کی ساری سازشوں کو ناکام کرسکتے ہیں ۔ مسلمانوں کا دور زوال و نکبت ختم ہونے کا یہی ایک واحد ذریعہ ہے کہ امت میں دین کی بنیاد پر اتحاد ہو اور امت توحید کی علمبردار بن جائے ۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ، امیر مقامی نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ امت کے باشعور طبقہ کو اس وقت اپنی دینی و ملی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ملت کی صحیح رہنمائی کرنا ہوگا ۔ جناب محمد حامد نے نظامت کی ۔