درج فہرست طبقات اور خواتین کو تحفظات کیلئے وزیر اعظم مودی سے کے سی آر کی نمائندگی
ایک گھنٹے کی بات چیت میں مسلم تحفظات پر خاموشی
حیدرآباد۔4اکٹوبر(سیا ست نیوز) حکومت تلنگانہ نے مسلمانوں سے کئے گئے تحفظات کے وعدہ کو فراموش کردیا اور حکومت نے سال 2017 میں جو اسمبلی میں قرارداد منظور کی تھی اس کا بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا جا رہاہے ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک گھنٹہ سے زائد طویل ملاقا ت کے دوران حکومت تلنگانہ کی جانب سے چیف منسٹر نے ریاستی اسمبلی میں منظور کی گئی ایس ۔سی طبقہ کے ذیلی طبقات کی زمرہ بندی کے سلسلہ میں قرارداد کا تذکرہ کیا گیا علاوہ ازیں او بی سی خواتین کو 33فیصد ایوان نمائندگان میں نمائندگی کے سلسلہ میں منظور کی گئی قرار داد کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کو یاددہانی کروائی گئی لیکن چیف منسٹر نے 2017 میں خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسلم تحفظات میں 8فیصد اضافہ کرتے ہوئے انہیں 12 فیصد کرنے کی قرارداد کا 22 نکات میں کوئی تذکرہ نہیں کیا بلکہ 15ویں نکتہ پر جو مطالبہ رکھا گیا اس میں بی سی ‘ ایس سی اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن بی سی تحفظات کو 33 فیصد کرنے کی بات کہی گئی ہے جبکہ موجودہ بی سی تحفظات 29 فیصد ہیں جن میں 4 فیصد بی سی(ای) مسلم ہیں اور اگر ان میں 8فیصد کا اضافہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بی سی تحفظات 37 فیصد ہوجائیں گے لیکن حکومت کی جانب سے وزیر اعظم سے کی گئی نمائندگی میں صرف 33 فیصد کا تذکرہ ہے جو کہ ناقابل فہم ہے جبکہ ایس ٹی تحفظات کو جو کہ فی الحال 6فیصد ہیں ان کو اضافہ کرتے ہوئے 10 فیصد کرنے کا تذکرہ موجود ہے۔ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل تلنگانہ راشٹر سمیتی نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن جب 2014 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد تحفظات کی فراہمی کو فراموش کردیا گیا تب عوامی تحریک اور دباؤ کے تحت حکومت نے اپریل 2017 میں ریاستی اسمبلی میں قرارداد منظور کروائی اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا لیکن آج جب وزیر اعظم سے وزیر اعلی نے ملاقات کی تو اسمبلی میں منظور کی گئی اس قرارداد کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا اور اس جانب مرکز کی توجہ مبذول کروانے کی بھی کوشش نہیں کی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے مسلم تحفظات کو مکمل طور پر فراموش کردیا ہے ۔ مسلم تحفظات کی دہائی دیتے ہوئے تلنگانہ راشٹرسمیتی کی حمایت کرنے والی مسلم تنظیموں اور اداروں کے لئے اب لمحہ ٔ فکر ہے کیونکہ ملت اسلامیہ کو اب وہ جوابدہ ہیں جنہوں نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے اس وعدہ پہلی معیاد کے دوران وفا نہ کئے جانے کے بعد بھی اس کی تائید کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان ٹی آر ایس کے حق میں انتخابی مہم چلائی تھی ۔