چیف منسٹر کی دعوت افطار کے بائیکاٹ کی اپیل، دلت بندھو کی طرح مسلمانوں کو کم از کم ایک لاکھ کا قرض دینے کانگریس کا مطالبہ
حیدرآباد۔/17 اپریل، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے کہا کہ مسلمانوں کو خیرات یا بھیک کی نہیں سرکاری ملازمت اور کاروبار کیلئے حکومت کی جانب سے قرض کی اجرائی کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کی دعوت افطار کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ نے کہا کہ چیف منسٹر کی دعوت افطار اور غریب مسلمانوں کو 200 تا 300 روپئے کے ملبوسات پر مبنی گفٹ پیاکٹس کی فراہمی سے کمیونٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی غربت ختم ہوگی۔ سال میں ایک مرتبہ کھانا اور کپڑے فراہم کرنے کے بجائے حکومت کو مسلم نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج کی مستقل ترقی کیلئے حکومت کو روزگار کے علاوہ تجارت کے لئے قرض فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ سمیر ولی اللہ نے الزام عائد کیا کہ افطار اور رمضان گفٹ کے نام پر حکومت اقلیتوں کو گمراہ کررہی ہے۔ تلنگانہ کا سالانہ بجٹ 2.56 لاکھ کروڑ ہے اور اقلیتی بہبود کیلئے 1728 کروڑ کا اعلان کیا گیا جو مجموعی بجٹ کا صرف 0.12 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں مختص کردہ بجٹ کا 50 فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اور بعض دیگر قائدین میڈیا میں بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے چیف منسٹر کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو افطار اور گفٹ کے بجائے معاشی طور پر استحکام کی ضرورت ہے۔ 200 روپئے کے ملبوسات کیلئے ہر سال مسلمانوں کو قطاروں میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ کانگریس قائد نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے بجٹ میں جان بوجھ کر تخفیف کی ہے۔ 2014 کے بعد سے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض جاری نہیں کیا گیا جبکہ 1.53 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہیں۔ 4 لاکھ غریب مسلم خاندانوں میں ملبوسات کی تقسیم سے تعلیم اور روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 4 لاکھ مسلم خاندانوں کو کم از کم ایک لاکھ روپئے قرض فراہم کیا جائے تاکہ وہ خود روزگار اسکیم کے تحت معاشی طور پر مستحکم ہوں ۔ چیف منسٹر اگر واقعی سیکولر ہیں تو انہیں اقلیتی بہبود کیلئے 4 ہزار کروڑ مختص کرنا چاہیئے۔ دلتوں کیلئے 10 لاکھ کی امداد کا اعلان کیا گیا اسی طرح 4 لاکھ غریب مسلم خاندانوںکو فی کس ایک لاکھ روپئے جاری کئے جائیں۔ سمیر ولی اللہ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مسائل کی عدم یکسوئی پر اپنا احتجاج درج کرائیں۔ر