مسلمانوں کو مادری زبان میں تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی سازش

   

Ferty9 Clinic

ریاست گیر سطح پر اردو میڈیم کالجوں میں تقررات سے گریز ، کئی کالجس میں اردو میڈیم بی اے ، بی کام کلاسیس دوسال سے بند

نظام آباد :23 ڈسمبر ( محمد جاوید علی) اُردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود بھی اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ ریاست گیر سطح پر اُردو میڈیم کے ڈگری کالجوں میں لکچررس کے جائیدادوں پر تقرر کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ ریاست گیر سطح پر تلنگانہ کے 33 اضلاع میں سے 18 ڈگری کالجس ہے اور یہ تمام کالجس متحدہ ریاست میں قائم کئے گئے تھے اور یہاں پر مسلم طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اُردو میڈیم کے ڈگری کالجس کا قیام عمل میں لاتے ہوئے بی اے ، بی کام کورسس کا آغاز کیا گیا تھا نظام آباد سے بھی تقریباً 35 سال قبل اُردو ایکشن کمیٹی کی جانب سے کی گئی نمائندگی پر گری راج کالج میں بی اے ، بی کام اُردو میڈیم کورس کو شروع کیا گیا تھا ۔ نظام آباد گری راج ڈگری کالج میں بھی اُردو میڈیم بی اے ، بی کام کلاسس شروع کی گئی تھی اور ہر سال 400 طلباء مادری زبان میں ڈگری کی تعلیم حاصل کررہے تھے نظام آباد کے علاوہ ضلع کے بودھن ، آرمور اور محبوب نگر میں بی اے ، بی کام اور محبوب نگر کے ایم وی ایس کالج میں بی کام ، ناگر کرنول میں بی اے ، ظہیر آباد میں بی اے ، بی کام ، بی ایس سی اور سنگاریڈی میں بی اے ، تانڈو ر میں بی کام ، سدی پیٹ میں بی اے ، کریم نگر میں بی اے ، جگتیال میں بی اے ، نرمل میں بی اے ، نلگنڈہ میں بی اے ، حسینی عالم حیدرآباد میں بی اے ، گولکنڈہ میں بی اے ، فلک نما حیدرآباد میں بی اے ، نامپلی گورنمنٹ ڈگری ویمنس کالج میں بی اے ، بی کام ، چنچل گوڑہ حیدرآباد میں بی اے کے کلاسس شروع کئے گئے تھے اور منصوبہ بند طریقہ سے دو سالوں سے گیسٹ فیکلٹی کا تقرر نہیں کیا جارہا ہے اور نظام آباد میں بی کام کی کلاسس کو برخواست کیا گیا تو سدی پیٹ میں بی اے کے کلاسس کو برخواست کردیا گیا ۔ نظام آباد گری راج کالج میں بی اے کی پولٹیکل سائنس اور بی کام کی 4 جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ اسی طرح آرمور میں پولٹیکل سائنس ، ہسٹری ، اکنامکس ، محبوب نگر ویمنس کالج میں بی اے میں پولٹیکل سائنس ، بی کام میں اکنامکس اور محبوب نگر ویمنس کالج میں بی کام کورس کو برخواست کیا گیا یہاں پر بھی چار مخلوعہ جائیدادیں تھی ۔ ایم وی ایس محبوب نگر کالج میں کامرس کی دو جائیدادیں ، ناگر کرنول میں اکنامکس اُردو ، ظہیر آباد میں بی اے کی پولٹیکل سائنس ، بی کام میں اکنامکس اور بی ایس سی کی چار جائیدادیں مخلوعہ ہے ۔ سنگاریڈی ویمنس کالج میں بی اے کے پولٹیکل سائنس ، ہسٹری، اُردو کی جائیدادیں مخلوعہ ہے ۔ تانڈور میں بی کام ، کامرس کی چار جائیدادیں ، سدی پیٹ میں بی اے ، پولٹیکل سائنس ، اکنامکس کے علاوہ بی کام کے چار ، کامرس کی جائیدادیں خالی ہے ۔ کریم نگر میں بی اے اُردو میڈیم کے پولٹیکل سائنس ، اکنامکس ، جگتیال بی اے کے پولٹیکل سائنس ، اکنامکس ، نرمل کے بی اے اُردو ، نلگنڈہ میں بی اے کی پولٹیکل سائنس ، ہسٹری ، گورنمنٹ ڈگری کالج حسینی عالم حیدرآباد میں پولٹیکل سائنس ، ہسٹری ، اکنامکس ، گولکنڈہ گورنمنٹ ڈگری کالج میں پولٹیکل سائنس ، ہسٹری ، اکنامکس ، فلک نما گورنمنٹ ڈگری کالج کے علاوہ نامپلی ویمنس کالج میں پولٹیکل سائنس ، ہسٹری ، کامرس کی چار جائیدادیں ، گورنمنٹ ڈگری کالج چنچل گوڑہ حیدرآباد بی اے اُردو میڈیم کے پولٹیکل سائنس ، ہسٹری کی جائیدادیں مخلوعہ ہے۔ اُردو میڈیم ڈگری کالجوں میں تقریباً 45 بی کام کی جائیدادیں خالی ہے اور بی ایس سی اُردو میڈیم کالجس کا قیام عمل میں لانا بھی ناگزیر ہے کیونکہ ضلع مستقر کے مقامات پر انٹر ، بی پی سی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے ۔ ریاست گیر سطح پر واقع ڈگری کالجوں میں طلباء کی تعداد ہونے کے باوجود بھی حکومت منصوبہ بند طریقہ سے گیسٹ فیکلٹی کا تقرر عمل میں نہیں لارہی ہے جبکہ کمشنر اعلیٰ تعلیم نوین متل تلگومیڈیم اور انگلش میڈیم کیلئے گیسٹ فیکلٹی میں جائیدادوں پر تقرر کرنے کیلئے واضح طور پر احکامات جاری کررہے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت منصوبہ بند طریقہ سے اُردو زبان کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے عام طور پر سیاسی قائدین جلسہ عام میں علامہ اقبال کے رٹے ہوئے اشعار کو سناکر اپنے آپ کو اُردو سے لگائو کی مثال پیش کرتے ہیں اور اُردو داں طبقہ اور مسلمانوں کو خوش کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیتے ہیں اور اقتدار پر آنے کے بعد اُردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے اور یہ ٹی آرایس کے مسلم اعلیٰ قائدین کیلئے لمحہ فکر ہے اگراُردو زبان کے تحفظ کیلئے مسلم قائدین حرکت میں نہ آئے تو آنے والے دنوں میں اُردو زبان کا خاتمہ یقینی ہوگااور قوم و ملت کا نقصان ہوسکتا ہے ۔