مسلمانوں کو پاکستان نہ بھیجنے کی قیمت ہندوستان چکارہا ہے

   

ہمارے آباء و اجداد نے غلطی کی، مرکزی وزیر گری راج کشور کا نیا متنازعہ بیان
پٹنہ۔21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر گری راج کشور نے یہ کہتے ہوئے پھر ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ آزادی کے موقع پر اسلامی مملکت کے قیام کے بعد ہمارا ملک یہاں کے تمام مسلمانوں کو پاکستان نہ بھیجنے اور ہندوئوں کو یہاں نہ لانے کی قیمت چکارہا ہے۔ گری راج کشور نے بہار کے سیمانچل علاقہ کے ضلع پورنیہ میں یہ ریمارک کیا۔ جہاں مسلمانوں کو قابل لحاظ آبادی، گری راج کشور نے جو بیگوسرائے کے بی جے پی رکن لوک سبھا بھی ہیں، شہریت (ترمیمی) قانون سی اے اے کی تائید میں مہم چلارہے تھے۔ انہوں نے اس قسم کی کوئی قانون سازی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے آباء و اجداد جب برطانوی سامراج سے آزادی کے لیے لڑرہے تھے، کہ اسلامی مملکے کے قیام کے لیے جناح کو آگے بڑھایا جارہا تھا، بی جے پی کے صاف گو لیڈر نے مزید کہا کہ ’ہمارے آباء و اجداد نے تاہم ایک غلطی کی۔ وہ اگر یہ یقینی بنائے کہ ہمارے مسلم بھائیوں کو پاکستان بھیج دیا جاتا اور ہندوئوں کو یہاں لایا جاتا تو اس قسم کے اقدام (سی اے اے ) کی ضرورت نہ رہتی تھی۔ لیکن ایس نہیں ہوسکا اور ملک کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی نوعیت کے تعصب و مظالم کے سبب ملک چھوڑکر دور ہونے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو فی الفور شہریت کی فراہمی کے لیے سی اے اے نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون سازی سے ایک نئی الجھن اور تنازعہ کا سبب بن گئی ہے کیوں کہ بعض گوشوں سے ان اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے کہ آسام کے طرف پر ہندوستان بھر میں این آر سی کرایا جاسکتا ہے۔