موثر فلاحی اقدامات کیلئے حکومت سے سفارش کرنے بی سی کمیشن سے محبوب نگر کی مختلف تنظیموں کی اپیل
محبوب نگر ۔23 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بی سی کمیشن نے طئے شدہ پروگرام کے مطابق 22 نومبر کو محبوب نگر کا دورہ کیا چیرمین رنجن کی قیادت میں سکریٹری و اراکین نے ضلع کلکٹریٹ ریونیو میٹنگ ہال میں سماعت شروع کی ۔ ضلع کلکٹر وجیندرا لوئی اس موقع پر موجود تھے۔ مختلف بی سی تنظیموں نے اپنے مسائل سے واقف کروایا۔ مقامی ایم ایل اے منیم سرینواس ریڈی نے کمیشن سے بی سی طبقات اور اقلیتوں کو درپیش مسائل پر نمائندگی کی اور اُن طبقات کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات کی وضاحت کی اور کہاکہ کمیشن حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرے اور ان کیلئے فلاحی اقدامات کیلئے حکومت سے سفارش کی جائے گی ۔ ٹی ایم ایف سی چیرمین عبیداللہ کوتوال نے کمیشن کے سامنے بی سی اور اقلیتوں کے مسائل پیش کئے ۔ محمد عبدالہادی ایڈوکیٹ نے اپنے رفقاء سید سعادت اللہ حسینی ، مقصود بن احمد ذاکر ایڈوکیٹ و دیگر کے ہمراہ جبکہ خواجہ فیاض الدین انوار پاشاہ ملی محاذ نے محمد تقی حسین تقی کنوینر ملی محاذ و دیگر محاذ کے ذمہ داران کے ساتھ ، محمد غلام غوث تاج دکن ایجوکیشنل سوسائٹی ، محمد محسن خان کنوینر کل جماعتی مسلم قائدین رابطہ کمیٹی ، کانگریس قائدین سراج قادری ، محمد ارشد علی کونسلر ، ظہیر اختر پارٹی ترجمان ، عظمت علی ، محمد فیاض ، محمد احمد علی ثناء صدر جامع مسجد کمیٹی ، بی آر ایس قائدین محمد محسن ، ریاستی آل سیوا کے صدر شیخ فاروق حسین ، سید عبدالوحید شاہ قادری ، الفیض سوسائٹی محمد جہانگیر بابا ، جماعت اسلامی کے ڈائرکٹر عبدالعزیز ، نارائن پیٹھ سے محمد امیرالدین ایڈوکیٹ ، تما م تنظیموں نے متفقہ طورپر نمائندگی کی کہ بی سی زمرے کے تحفظات میں اضافہ ، دیگر پسماندہ طبقات سید ، مغل ، پٹھان ، عرب کو بی سی ای میں شامل کیا جائے ۔ مسلمانوں کی جامع ترقی کیلئے سب پلان وغیرہ پر نمائندگی کی گئی ۔ ریاستی مسلم لیگ سکریٹری مرزا قدوس بیگ ، جوائنٹ سکریٹری صادق حسین نے بھی بی سی کمیشن کے روبرو حاضر ہوکر یادداشت پیش کی جس میں نمائندگی کی گئی کہ دستور کی آرٹیکل 15 اور 16 میں واضح ہے کہ مسلمانوں کو اقلیتی برادری تسلیم کرتے ہوئے کئی ایک کمیشنوں ، کمیٹیوں نے اپنی اپنی رپورٹ میں واضح کردیا کہ مسلمان ملک میں پسماندہ سے بھی زیادہ پسماندگی کا شکار ہیں ۔ تمام شعبوں میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے تحفظات ضروری ہیں ۔ مسلمانوں کو معاشی پسماندگی کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔ فرقوں کی درجہ بندی معاشی پسماندگی کی بنیاد پر کی جائے نہ کہ نسلی اعتبار سے ۔