اترپردیش میں 7 لوک سبھا نشستوں کیلئے مقابلہ کرنے مجلس کا اعلان ۔ بی جے پی کو کئی حلقوں میں فائدہ ہوسکتا ہے
حیدرآباد 29 فروری(سیاست نیوز) ملک میں انڈیا اتحاد کو استحکام کے بعد بی جے پی نے ووٹ کاٹنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور مسلم و سیکولر ووٹوں کو منقسم کرنے کی حکمت عملی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ ای ڈی ‘ سی بی آئی و انکم ٹیکس سے سیاسی قائدین کو ہراساں کرنے کے بعد اب دوبادہ پرانی حکمت عملی کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ اترپردیش میں مجلس اتحاد المسلمین نے 7 حلقوں پر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے اور ان حلقوں پر جہاں مسلم ووٹرس کی اکثریت ہے ان سے مقابلہ کیلئے صدر اترپردیش مجلس جناب عاصم وقار نے اعلان کیا اورکہا کہ دو تین دور کی بات چیت کے بعد مجلس نے یہ فیصلہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ فیروز آباد‘ بدایوں‘ مرادآباد‘ سنبھل ‘ امروہہ‘ میرٹھ و اعظم گڑھ سے انتخابات میں حصہ لے گی۔حلقہ امروہہ جو کہ 2014 میں بی جے پی کی نشست تھی اس کو 2019 میں کنور دانش علی نے بی ایس پی ٹکٹ پر مقابلہ کرکے کامیابی حاصل کی تھی ۔اس حلقہ سے بی جے پی امیدوار کنور سنگھ تنور دوسرے نمبر پر تھے ۔ حلقہ سنبھل سے 2019 میں سماج وادی پارٹی کے مرحوم رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق منتخب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر یہاں بھی بی جے پی تھی ۔ مرادآباد سے سماج وادی کے ڈاکٹر ایس ٹی حسن رکن پارلیمنٹ ہیں اور یہاں بھی بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی۔ فیروزآباد حلقہ سے بی جے پی امیدوار ڈاکٹر چندرا سین جادونے 2019 میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ سماج وادی امیدوار اکشے یادو 28 ہزار ووٹ سے ناکام ہوئے تھے ۔ ایس پی کے باغی امیدوار شیو پال سنگھ یادو نے زائد از 90 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔حلقہ اعظم گڑھ سے بی جے پی امیدوار دنیش لعل یادو نے 2019 میں کامیابی حاصل کی تھی اور سماج وادی امیدوار دھرمیندر یادو کو 8 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ میرٹھ سے 2019 میں بی جے پی امیدوار راجندر اگروال نے بی ایس پی امیدوار حاجی یعقوب قریشی کو 5000ووٹ سے شکست دی تھی۔ اسی طرح بدایوں سے بی جے پی نے 2019 کامیابی حاصل کی تھی اور دوسرے نمبر پر سماج وادی تھی جسے 18 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ مجلس نے اترپردیش میں جن 7 حلقہ جات سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے ان میں بی جے پی کو بہت کم ووٹ سے کامیابی ملی تھی یا بی جے پی امیدواروں نے دوسرے نمبر تھے ۔ بدایوں‘ مرادآباد‘ فیروزآباد‘ امروہہ ‘ سنبھل اور میرٹھ سے مقابلہ کرنے عاصم وقار کے اعلان کے بعد اترپردیش میں سرگوشیاں شروع ہوچکی ہیں کہ مجلس کے امیدوار ان نشستوں پر اگر چند ہزار ووٹ بھی پاتے ہیں تو بی جے پی کی کامیابی یقینی ہوجائے گی۔ اترپردیش میں جہاں کانگریس و سماج وادی کے درمیان نشستوں ہوچکی ہے اور دونوں کے اتحاد کے بعد کہا جا رہاہے کہ یو پی میں بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا تھا اور بی جے پی کو 40نشستوں کا نشانہ عبور کرنا مشکل ہوچکا تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہوجائیگی کیونکہ 7 نشستوں پر مجلس کے امیدوار ہوں تو اس کا اثر دیگر نشستوں پر بھی ہونے کا خدشہ ہے اور اکثریتی ووٹر کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انتخابات سے قبل بی جے پی بہر صورت مخالف حکومت ووٹرس کو منقسم کرکے اپنی کامیابی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے اس کیلئے وزیر اعظم نے 370 نشستوں پر کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے دفعہ 370 کی یاد تازہ کی اور سرکردہ قائدین کو انکم ٹیکس ای ڈی و سی بی آئی سے نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور اب اپوزیشن ووٹ کی تقسیم کے منصوبہ پر عمل کو یقینی بنانے کی حکمت عملی سے عوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اکثریتی ووٹر کو متحد کرکے کامیابی حاصل کی جائے۔3