واشنگٹن: امریکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ حماس کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ پالیسی پہلے ہی ایک طالب علم پر لاگو کی جا چکی ہے، جس کا ویزا مبینہ طور پر حماس کے حامی مظاہرے میں شرکت پر منسوخ کیا گیا۔ فاکس نیوز کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جبکہ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ محکمہ انصاف اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ محکمہ خارجہ نے اس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ امریکہ دہشت گردوں کے حامی غیر ملکی وزیٹرز کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور بین الاقوامی طلبہ سمیت قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ویزا منسوخی اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوری میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت یہود دشمنی کے خلاف اقدامات اور حماس کے حملے کے بعد فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ ایگزیوس کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ’کیچ اینڈ ریوینٹ‘ مہم کے تحت ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کی جائے گی تاکہ اسرائیل مخالف مظاہروں اور یہودی طلبہ کے خلاف مبینہ نفرت انگیز بیانات کا تجزیہ کیا جا سکے۔