ترکیہ زلزلے متاثرین کیلئے فراخدلی سے رقومات جمع کروانے کا مشورہ : مفتی خلیل احمد
حیدرآباد۔12فروری(سیاست نیوز) ترکیہ و شام میں آئے زلزلوں نے دنیا بھر میں انسانیت کو لرزہ بر اندام کردیا ہے اور چند لمحوں میں دونوں ممالک میں ہزاروں افراد لقمہ ٔ اجل بن چکے ہیں اور لاکھوں افراد زخمی ہیں ہونے کے علاوہ 50 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوچکے ہیں جن کی مدد کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے امت مسلمہ کے متمول و مخیر افراد سے اپیل کی کہ وہ ممکنہ حد تک زلزلہ کے متاثرین کے تعاون کے لئے اقدامات کا حصہ بنیں کیونکہ اللہ تعالیٰ مصیبت زدگان کی مدد کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جو مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں انہیں بیش بہا اجرو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ۔ مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ ترکیہ سفارتخانہ کی جانب سے راست رقمی امداد کی قبولی کے لئے بینک کھاتہ کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور اشیاء کی وصولی کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے اسی لئے امت مسلمہ کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے ۔شیخ الجامعہ نے زلزلہ کے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزمائش کے اس وقت میں ہندستانی مسلمانوں بالخصوص شہریان حیدرآباد کو ان لوگوں کی مدد کرنی چاہئے جو اس آفت میں مبتلاء ہیں۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ ترکیہ قونصل خانہ حیدرآباد کی جانب سے اشیاء کی وصولی کے ساتھ ہی جو شہریان حیدرآباد کا ردعمل سامنے آیا ہے وہ شہریوں کی کشادہ دلی اور ان کی ہمدردی کا ثبوت ہے ۔انہو ںنے ترکیہ سفارت خانہ کی جانب سے شروع کئے گئے بینک کھاتہ میں رقومات جمع کروانے کی اپیل اور ان رقومات کو زلزلہ کے متاثرین کے لئے راحت کاری کے کاموں پر خرچ کئے جانے کے حکومت ترکیہ کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راست بینک کھاتے کے ذریعہ منتقلی کے اقدامات کروڑہامتاثرین کی مدد کا سبب بن سکتے ہیں۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے ترکیہ سفارت خانہ کے بینک کھاتہ میں ہی راست طور پر رقومات منتقل کرنے یا جمع کروانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ خود حکومت ترکیہ اور ہندستان میں موجود ترکی سفارت خانہ کی جانب سے زلزلہ کے راحت کاری کاموں کے لئے علحدہ بینک کھاتہ کھولا گیا ہے جو کہ حکومت اور سفارت خانہ کی کوششوں اور متاثرہ علاقوں میں درکار اشیاء کی ضرورت و دیگر راحت کاری کاموں کے لئے مالیہ کی ضرورت کا اظہار کرتا ہے اسی لئے مالیہ کی فراہمی میں فراخدلی کا مظاہرہ کیا جائے۔