ویمنس یونیورسٹی میں آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خاں یادگار لکچر ، جناب عامر علی خاں اور پروفیسر کودنڈا رام کا خطاب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر ہوتا ہے۔ ویسے بھی آج کے دور میں اگر آپ کے پاس تعلیم ہے لیکن آپ کسی فن کے ماہر نہیں ہیں تو پھر آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس لیے آج ہم سب کو آل راونڈر یا ہر فن مولا ہونا چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ایم ایل سی نے تلنگانہ مہیلا وشوا ودیالیم ویمنس یونیورسٹی (کوٹھی ویمنس کالج ) کی جانب سے اہتمام کردہ بانی جامعہ عثمانیہ آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر تیسرے سالانہ یادگار لکچر سے خطاب میں کیا ۔ یہ لکچر نذیر احمد میموریل اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا ۔ پروفیسر ایم کودنڈا رام رکن قانون ساز کونسل نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی جب کہ پروفیسر ایم ویجو لتا وائس چانسلر ( ٹی ایم وی ) نے صدارت کی ۔ پروفیسر کے سرسوتی اماں اسپیشل آفیسر ( ٹی ایم وی ) کی سرپرستی میں منعقدہ اس لکچررس میں طلباء و طالبات اور معزز شخصیتوں کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ پروفیسر گھنٹہ چکراپانی سابق صدر نشین ( ٹی پی ایس سی ) ، ڈاکٹر راجو نائک اسوسی ایٹ پروفیسر ( ایفلو ) اور ڈاکٹر محمد شعیب احمد صدر نذیر احمد میموریل اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ مہمانان اعزازی تھے ۔ پروگرام ڈائرکٹر ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ صدر شعبہ اردو نے بڑی خوبصورتی سے کارروائی چلائی ۔ اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خاں ایم ایل سی نے مزید کہا کہ ہر انسان کی ترقی میں آئیڈیاز یا نت نئے خیالات باالفاظ دیگر تخلیقی صلاحیتوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ غرض آئیڈیا ہی آپ کی ترقی کا راز ہے ۔ جناب عامر علی خاں کے مطابق موجودہ دور میں ہمیں خود کو زیور علم سے آراستہ رکھنے کے ساتھ ساتھ جنرل نالج پر اور مختلف فنون میں عبور رکھنا چاہئے ۔ ان کے خیال میں جو بچے شریر ہوتے ہیں ان میں غیر معمولی صلاحیتیں ہوتی ہیں مگر وہ شرارت میں اپنی ساری صلاحیتیں ضائع کردیتے ہیں ۔ اگر ایسے بچوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے معاشرہ بالخصوص مسلمانوں میں اخلاقی گراوٹ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں اپنی خامیوں کو دور کرنا چاہئے ۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکٹ ہے ۔ تعلیمی شعبہ کا جہاں تک سوال ہے باوقار بیرونی یونیورسٹیز ہندوستان کا رخ کررہی ہیں ۔ ایک مرحلہ پر انہوں نے تعلیمی صلاحیتوں اور روزگار کے بارے میں کہا کہ 2004 سے 2014 تک اسکالر شپس دی جاتی تھی ۔ بچہ انجینئر بن کر نکل جاتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ پہلی نوکری میں ہی اسے 20 ہزار روپئے کی تنخواہ ملے ۔ ایک سال تک وہ عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور پھر مایوس ہو کر آزاد ویزا پر خلیجی ممالک چلا جاتا ہے ۔ اگر وہاں ملازمت ملی تو ٹھیک ورنہ گھر واپس ہوجاتا ہے ۔ جہاں ماں باپ اسے ذمہ دار بنانے کے لیے شادی کردیتے ہیں پھر روزگار نہ ہونے کے بعد عائلی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک اچھی بات یہ کہی کہ فی الوقت معاشرہ میں اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ آج کل کراوڈ فنڈنگ بھی بہت زیادہ ہورہی ہے ۔ ان حالات میں وہ چاہتے ہیں کہ جگہ جگہ اسٹارٹ اپ سنٹر کھولے جائیں ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اسٹارٹ اپ سنٹر کے قیام سے متعلق بہت سنجیدہ ہیں ۔ ۔