معاشی بحران کے اندیشے ‘ مسلمان فضول خرچی سے گریز کریں ‘ احتیاط لازمی

   

٭ جھوٹی شان و شوکت اور دکھاوے کی زندگیوں سے اجتناب ضروری
٭ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرکے سود کی لعنت سے بھی بچا جاسکتا ہے
٭ حکومتوں سے امیدیں فضول ۔ سرکاری وعدے زبانی جمع حرچ تک محدود
٭ اپنی مدد آپ کے اصول کے ذریعہ مستقبل کی مشکلات کا مقابلہ ممکن

سید خلیل قادری
حیدرآباد 17 مئی : دنیا بھر میں معاشی انحطاط اور مشکل دور کے اندیشے ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی کی کشیدگی نے دنیا پر وہ اثرات مرتب کئے ہیں جن کی کسی کو توقع نہیں تھی ۔ زندگی کا شائد ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جس پر اس کشیدگی کے اثرات دکھائی نہ دے رہے ہوں۔ خاص طور پر معیشت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔ توانائی بحران شدت اختیار کرنے لگا ہے ۔ گیس کی سپلائی متاثر ہے ۔ قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہونے لگا ہے ۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاء بھی عام آدمی کی پہونچ سے باہر ہونے لگی ہیں۔ ادویات اور دودھ کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ہندوستان میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔ مشرق وسطی کی کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں گیس کی سپلائی متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کمرشیل گیس کی قیمتیں 35 فیصد تک بڑھا دی گئی ہیں۔ اب جو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر تین روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے وہ محض فیول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے زندگی کے ہر شعبہ پر
اثرات مرتب ہونگے ۔ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم کی جانب سے بھی بارہا یہ اشارے دئے جا رہے ہیں کہ آنے والا وقت مزید کٹھن اور مشکل ہوسکتا ہے ۔ کفایت شعاری سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ملک کے ہر شہری کیلئے قابل فکر ہے اور اس کا سبھی کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس ملک میں سب سے کمزور معاشی حالت اگر کسی کی ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ مسلمان محنت کش ہیں اور سخت جدوجہد کے بعد اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے ہیں۔ تاہم ایک پہلو ہے جس پر خاص طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان فضول خرچ اور شاہ خرچ ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی معاشی منصوبہ بندی نہیں ہوتی ۔ ہمارا اپنا کوئی بجٹ نہیں ہوتا ۔ ہم مستقبل کی فکر نہیں کرتے اور نہ ہی آنے والے وقتوں کیلئے کوئی تیاری کرتے ہیں۔ جو حالات فی الحال پیدا ہو رہے ہیں وہ ہمارے لئے سوچ کے دروازے ضرور کھولتے ہیں۔ ہمیں اپنی آمدنی اور اپنے اخراجات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں پس اندازی کی عادت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف آج کی ضرورت پوری کرنے کی بجائے آئندہ وقتوں کی مشکلات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے معاشی منصوبہ بندی کی ضرو رت ہے ۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنی آمدنی کے اعتبار سے زندگی گذارنے خود کو تیار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ دنیا میں جو حالات ہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنی معاشی حالت کو بہتر اور مستحکم بنائیں۔ دنیا دکھاوے کی زندگی سے گریز کیا جائے ۔ غیر ضروری اخراجات کو کم سے کم کیا جائے ۔ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے ۔ اپنی آمدنی اور اخراجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک بجٹ بنائیں۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آنے والا وقت ہمارے لئے کیا مشکلات لا سکتا ہے یا کیا آسانیاں لا سکتا ہے ۔ آج مسلم معاشرہ دکھاوے کا زیادہ شکار ہوگیا ہے ۔ تن آسانی اور فضول تعیشات کو ہم نے اپنی روز مرہ کی زندگیوں کا حصہ بنالیا ہے ۔ ہمیں اب اس طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ وقت کی نزاکت کو سمجھنا چاہئے اور فضول خرچی کی عادت کو ترک کرنا ہوگا ۔ چاہے ہماری شادیاں ہوں یا پھر دیگر تقاریب ہمیں جھوٹی شان و شوکت سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسلام نے بھی ہمیں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے اور ہمیں اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے وقت کی مشکلات اور تنگی سے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو بھی بچاسکیں۔ ہمارا معاشرہ جھوٹی شان و شوکت اور دکھاوے کی خاطر سود جیسی لعنت کا بھی شکار ہورہا ہے ۔ ہم اپنی زندگیوں میں اعتدال پیدا کرتے ہوئے سود کی لعنت سے بھی بچ سکتے ہیں اور معاشرہ میں بہتری لاسکتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضـرورت ہے کہ حکومتیں ہمارے لئے صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں اور کوئی ہماری مدد کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔ ہمیں اپنی مدد آپ کے اصول کو ہی اختیار کرنا چاہئے ۔