مغرب چاہتا تھا کہ ’روسی ایک دوسرے کو مار ڈالیں‘: پوٹن

   

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے واگنر گروپ کی بغاوت کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ انہوں نے مسلح بغاوت کے دوران اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنے کیلئے سکیورٹی اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے الزام لگایا کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی چاہتے تھے کہ واگنر گروپ کے کرایے کے فوجیوں کی بغاوت کے دوران روسی “ایک دوسرے کو ہلاک کر دیں۔”باغی ماسکو پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بیلا روس کے صدر کی ثالثی میں واگنر گروپ کے رہنما یوگینی پریگوڑن کے ساتھ بات چیت کے بعد باغی فوجیوں نے اپنا مارچ منسوخ کردیا۔ کرایے کے یہ فوجی اتوار کے روز اپنے اڈے پر واپس چلے گئے۔ولادیمیر پوٹن نے باغیوں کی واپسی کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ انہوں نے خونریزی سے بچنے کیلئے احکامات جاری کیے ہیں اور واگنر گروپ کو معافی دے دی ہے، جن کی بغاوت نے ان کے دو دہائیوں کے اقتدار کیلئے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج پیش کر دیا تھا۔