مغربی بنگال میں تاریخ کے غیر منصفانہ انتخابات

   

روش کمار
مغربی بنگال میں رائے دہی کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آئے۔ ایسے واقعات جس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور اس کی جانب سے وہاں تعینات سنٹرل فورسیس کی انداز کارکردگی پر سوالات اُٹھائے ہیں۔ اس مرتبہ مغربی بنگال میں رائے دہی کے دوران دیکھا گیا کہ رائے دہندوں کو ان کے لباس دیکھ کر پہچاننے کے بیانیہ پر عمل کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں ہم آپ کے سامنے دو رائے دہندوں دے شیر علی مونڈل اور گنیش مجمدار کی مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ دونوں جب لنگی زیب تن کئے ووٹ دینے گئے اُنھیں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا۔ دونوں 800 میٹر واپس گئے، پتلون پہن کر آئے تب جاکر حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ مرکزی فورسیس نے مغربی بنگال کے اُن دو رائے دہندوں کو کس بنیاد پر ووٹ دینے سے روکا؟ کیا لنگی اور بنیان میں ووٹ ڈالنا منع ہے۔ رائے دہی کے دن کا ڈریس کوڈ کیا ہونا چاہئے تو پھر جو ارمانی کا سوٹ پہن کر نہیں گیا اُسے ووٹنگ کی قطار سے باہر کردینا چاہئے۔ رائے دہندوں کے کپڑوں کے برانڈ کی بھی چیکنگ کی ڈیوٹی الیکشن کمیشن اپنے کام کا حصہ بنا سکتا ہے۔ اگر آپ نے ٹیلی گراف اخبار میں ان کے نامہ نگاروں کی رپورٹس پڑھی ہوگی تب ہی آپ جان پائیں گے لیکن نہیں پڑھی ہے تو آپ کو ہماری رپورٹس سے پتہ چلے گا کہ دو لوگوں کو لنگی پہن کر جانے سے پولنگ اسٹیشن سے واپس کردیا گیا۔ مغربی بنگال الیکشن نتائج آنے کے بعد ہر فکرمند شہری کو چاہئے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ منصفانہ و شفاف انتخابات کے نام پر کتنا کچھ غیر منصفانہ ہوا ہے۔ سنٹرل فورسیس کی تعیناتی کی تعداد کے علاوہ بھی ان کی تعیناتی کی پلاننگ کیا تھا۔ ایک ایک ضلع میں کتنے عہدہ داروں کو تعینات کیا گیا۔ ان سب کی تفصیلات سے آگہی ہونا چاہئے اور اس کا بھی خلاصہ ہونا چاہئے کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، سی بی آئی، آئی ٹی سے گھری ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس نے انتخابات میں لڑا کیسے۔ جس طرح سے بنگال کو فوجی چھاونی میں بدلا گیا، کیا اس میں یہی باقی رہ گیا ہوگا کہ ڈرون نہیں اڑا، سکھوئی اور رافیل نے اُڑان نہیں بھری، تمام طرح کے ٹینک ہر مرکز رائے دہی کے باہر نہیں لگائے گئے۔ فری اینڈ فیر چناؤ کے نام پر مرکزی ایجنسیوں کو جو موقع ملا ہے اسے فوج کو حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہئے تھا۔ بنگال کے چناؤ کا کس کس سطح پر Meliterization کیا گیا جب اتنا کچھ کیا ہی گیا تو سیدھے فوج کو ہی اُتار دینا چاہئے تھا۔ اس سے بھی خواہش پوری نہیں ہوتی تو ممتا بنرجی کو گھیرنے کے لئے امریکہ کے ابراہم لنکن نامی فوجی بیڑے کو آبنائے ہرمز سے منگوالینا چاہئے تھا۔ ٹرمپ سے B2 بمبار مانگ لینا چاہئے تھا جو ممتا بنرجی کے ہیلی کاپٹر کے اوپر پرواز بھرتا رہتا۔ شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے لیڈر ادتیہ ٹھاکرے نے کہا ہے کہ بنگال نے جس کا سامنا کیا ہے اس کے بارے میں ایک لمحہ چوکس ہوکر سوچئے۔ بنگال کے ساتھ اس طرح سے سلوک کیوں کیا گیا جیسے حملہ ہوگیا ہو۔ بھارت میں ریاست کے فخر سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں۔ ان انتخابات کو جیسے کرایا گیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کی جمہوریت ختم ہوچکی ہے۔ مرکزی ایجنسیوں و اداروں کے ایک ریاست پر قبضہ جمانے کی کوشش کی گئی۔ اُمید ہے کہ بنگال اس کا جواب دے گا۔ یہ ایک خاتون کی بات نہیں جسے سب کچھ اکیلا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ بنگال کی بات ہے اور بھارت نام کے نظریہ کی بات ہے۔ دنیا میں ہندوستانی جمہوریت کی ساکھ کی بات ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ اس Theme پر کئی اور لوگوں نے بنگال الیکشن کے بارے میں لکھا ہے اور دیکھا ہے۔ فرنٹ لائن میں انکش پال کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان The Bengal Laboratory ہے۔ انکش اس مضمون میں بتاتے ہیں کہ بنگال کے الیکشن عام زندگی کو فوجیانے کی ایک لیباریٹری ہے۔ سوال ہے کہ کیا ہماری عدالتیں، پریس اور عوامی تحریکیں اس کے خطرات کو پہچان کر اس کے خلاف آواز اُٹھا بھا سکتے ہیں، روک سکتے ہیں۔ کیا عوام اس بات کو سمجھ پائیں گے کہ الیکشن کمیشن ہدایت دے رہا ہے۔ وزارت داخلہ تقاریر کرتا ہے اور CAPF مرکزی فورسیس کے لاکھوں جوان مغربی بنگال کی گلی گلی میں پھیل جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مارچ کرتے ہیں، ان کے لئے کلاس رومس کو کیمپ میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔
اس کوریو گرافی کی سمجھ عام عوام میں کیسے بنے گی؟ بنگال کے الیکشن سے لوگوں میں اس کی عادت ڈال دی گئی ہے کہ بندوقوں کے سائے میں ووٹ ڈالنا جمہوری عمل کا حصہ ہے اور ایسی عادت آسانی سے نہیں جاتی یہ اب آگے کے الیکشن کا حصہ بنا رہ سکتا ہے اس طرح کا عمل ہمیشہ ایسے ہی شروع ہوتا ہے جیسے بنگال میں ہوا اور پھر پورے ملک میں نافذ کی جاتی رہے گی۔ اس طرح جیسے شمال مشرقی اور کشمیر میں AFSPA لگاکر سکیورٹی فورسیس کو جو اختیارات دیئے گئے اس کا استعمال ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی کیا جائے۔ آج بھی AFSPA کے اُصول ان علاقوں میں نافذ ہیں۔ انکش کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنگال میں جس طرح سے مرکزی فورسیس کی تعیناتی کی گئی وہ اُصولوں سے ہٹ کر کچھ بھی کرنے کی روایتوں کو بڑھاوا دیتی ہے۔ ملٹری کی موجودگی کو اس طرح عام بنادیتی ہے کہ الیکشن کے بعد بھی تعیناتی کا اثر رہ جاتا ہے۔ ملٹری انتخابات کے بعد تعیناتی رہے گی اس کے احکامات بھی جاری ہوگئے۔ رائے دہی سے قبل امیت شاہ اپنی تقاریر میں مرکزی فورسیس کی تعیناتی کی حد بڑھانے کی باتیں کیوں کرنے لگ گئے۔ سب کچھ پہلے سے کیوں ہورہا ہے الیکشن کے بعد دو ماہ تک کی تعیناتی کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ریاست کی پولیس کسی کام کی نہیں رہی۔ سی اے پی ایف کے ڈائرکٹر جی پی سنگھ کا ٹوئٹ دیکھئے لکھتے ہیں، اگلی ہدایات تک سی اے پی ایف کی 500 کمپنیاں بنگال میں تعینات رہیں گی۔ ان کا یہ ٹوئٹ امیت شاہ کے بیان کے بعد آیا کہ 60 دنوں تک بنگال میں مرکزی فورسیس کی تعیناتی رہے گی۔ امیت شاہ کے بیان کو بنگال میں بی جے پی کے ریاستی صدر بھٹا چاریہ بھی دہرا رہے ہیں۔ ٹیلی گراف میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ الیکشن کے بعد 70 ہزار جوانوں کی تعیناتی بنی رہے گی اس لئے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ گھوکھلے نے اعداد و شمارٹ ٹوئیٹ کئے ہیں۔ ان کے مطابق 29 اپریل کو منی پور میں CAPF کے 18500 جوانوں کی تعیناتی تھی اور اسی دن کولکتہ میں 28,500 جوانوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔ پورے منی پور میں جہاں کئی دنوں سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے وہاں کی بہ نسبت 10 ہزار جوان کولکتہ میں زیادہ تعینات کئے گئے۔ کیا عام عوام ان خطرات کو سمجھ پاتی ہوگی کہ صرف کولکتہ میں جتنے نیم فوجی فورسیس کی تعیناتی ہے اس سے بہت کم اس منی پور میں تعینات کئے گئے ہیں جہاں کئی ماہ سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ صرف مرکزی فورسیس کی تعیناتی ہی مسئلہ نہیں ہے الیکشن کمیشن آپ کو ہر بار بتاتا ہے کہ اس بار مغربی بنگال میں اتنی رائے دہی ہوئی جتنی آزادی کے بعد کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن الیکشن کمیشن یہ نہیں بتاتا کہ 92 یا 93 فیصد رائے دہی کے پیچھے کا سچ کیا ہے؟ ایس آئی آر کی وجہ سے تقریباً 90 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے گئے۔ رائے دہندے کی تعداد 7.66 کروڑ سے گھٹ کر 6.26 کروڑ ہوگئی۔ گزشتہ کی بہ نسبت 11 فیصد رائے دہندے کم ہوگئے۔ اس حساب سے دیکھیں تو گزشتہ کے مقابلہ اس بار بنگال میں 3.6 فیصد رائے دہی زیادہ ہوئی۔ تب بھی اتنا ہنگامہ کیوں؟ 27 لاکھ لوگوں کو ووٹ دینے کا موقع ملتا تب کتنا رائے دہی کا فیصد بڑھ جاتا۔ یہ اعداد و شمار الیکشن کمیشن کیوں نہیں بتاتا ہے۔ 2001ء میں جب ایس آئی آر ہوا تب ایک فیصد رائے دہندے ہی کم ہوئے لیکن اس کے بعد 2006ء کے اسمبلی انتخابات میں رائے دہی کا تناسب مغربی بنگال میں 7.7 فیصد بڑھا۔ اس بار 3.6 فیصد ہی بڑھا ہے۔ دی ہندو میں مشہور صحافیوں کا جو جائزہ شائع ہوا ہے کیا عام لوگوں تک یہ بات پہنچ پائے گی کہ 92% اور 92% رائے دہی ہونے کے دعوؤں میں کتنا جھول ہے۔ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی بار 92 فیصد سے زیادہ رائے دہی ہوئی لیکن آزادی کے بعد پہلی بار 27 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے انھیں حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔