نئی دہلی: 28 اگست (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ شروع کرنے کے اعلان پر کانگریس نے سخت تنقید کی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس منصوبے کو حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت پہلے سے موجود مفت کوچنگ اسکیم کو بھی موثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے 17 جون کو راجستھان کے کوٹا میں منعقدہ ’چھاترون کی گونج‘ پروگرام میں ملک میں تیزی سے پھیلتی کوچنگ انڈسٹری اور اس کے سرکاری تعلیمی نظام پر پڑنے والے اثرات کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق کوچنگ کا بڑھتا ہوا کاروبار ملک کے سرکاری تعلیمی نظام پر حاوی ہوتا جارہا ہے اور بھارتی خاندان اب کوچنگ مراکز پر حکومت ہند کی تعلیم پر ہونے والی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ عوامی دباؤ کے بعد وزیر اعظم نے 15 اگست کو مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا، لیکن حکومت کا سابقہ ریکارڈ اس منصوبے کے کامیاب نفاذ کے حوالے سے اعتماد پیدا نہیں کرتا۔ انہوں نے وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی موجودہ مفت کوچنگ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برس سے یہ اسکیم اپنے مقررہ ہدف سے پیچھے ہے۔ ان کے مطابق تین برس میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن صرف 2,790 طلبا ہی اس میں شامل ہوسکے، جو مقررہ ہدف کا تقریباً 26 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔