حکومتیں عوام کو راحت اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہوتی ہیں۔ ان کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور ان کے معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرتی ہیں۔ اس کیلئے اگر عوام کو کچھ سہولیات مفت فراہم کرنے کی ضرورت پڑے تو اس کیلئے اعتراض نہیں کے جانا چاہئے ۔ ہندوستان میںحالیہ عرصہ میں یہ دیکھنے میںآیا ہے کہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے عوام کو کچھ سہولیات مفت فراہم کرنے کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ کہیںعوام کو ایک حد تک بجلی مفت سربراہ کی جا رہی ہے تو کہیں پانی کی سپلائی مفت کردی گئی ہے ۔ کہیںدوخانے مفت کردئے گئے ہیںتو کہیںخواتین کا بسوں میںسفر مفت کردیا گیا ہے ۔ کہیںکسانوںکو مفت بجلی سربراہ کی جا رہی ہے تو کہیں دیگر اسکیمات شروع کی گئی ہیں۔ نوجوانوںکوبیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکالر شپ دی جا رہی ہے تو لڑکیوں کی شادیوں میںامداد فراہم کی جا رہی ہے ۔ کہیں بیواوں اورمعمرین کو وظائف دئے جا رہے ہیں تو کہیں معذوروں کیلئے بھی کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان ساری اسکیمات وغیرہ کا تعلق عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ان کی مشکلات کو کم سے کم کرنے سے ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کی اسکیمات پر شدید اعتراض ہے ۔اس کی وجہ سے ہی عوام کو ملنے والی سہولیات پر اعتراض کیا جا رہا ہے ۔ اس کے خلاف عدالتوں میں تک بھی کشاکش شروع کردی گئی ہے اور سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے مرکز کا یہ استدلال تھا کہ عوام کو مفت سہولیات فراہم کرنے سے ملک کی ترقی متاثر ہوگی ۔ مرکز کی نظر میںملک کی ترقی کا معیار یا پیمانہ کیا ہے یہ واضح نہیں ہے ۔ اگر کسی ملک کی ترقی دیکھنی ہو تو وہاں کے عوام کے معیار زندگی کو دیکھا جاتا ہے ۔ ان کو ملنے والی سہولیات کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی راحتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ تاہم مودی حکومت میں ترقی کا پیمانہ اور اس کا معیار کیا ہے اس کی وضاحت نہیںہورہی ہے ۔ ترقی کے معنی صرف کارپوریٹس کو مراعات فراہم کرنے اور انہیںعوامی ادارے حوالے کرنے کے تو نہیں ہوسکتے ۔
ہندوستان میں عوام کی حالت انتہائی مشکلات کا شکار ہے ۔ عوام کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ان کی آمدنی گھٹتی جا رہی ہے اور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ۔ عوام خوردنی تیل دو سو روپئے کیلو حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور دالوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ترکاریاں بھی مہنگی ہیں تو ادویات اور دودھ بھی عوام کی پہونچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ ایسے میں عوام کو اگر حکومت سے کچھ راحت ملتی ہے تو ان کا بوجھ کم ہوتا ہے لیکن عوام کو راحت دینے کی بجائے حاشیہ بردار کارپوریٹس کو عوامی شعبہ کے نفع بخش ادارے بھی کوڑیوں کے مول فروخت کئے جا رہے ہیں۔ ائرپورٹس سے لے کر بندرگاہوںتک ‘ ٹیلی مواصلات سے لے کر اسپیکٹرم تک ‘ ریلوے اور آر ٹی سی بھی محفوظ نہیںہیں ‘ سبھی کو حکومت خانگی شعبہ کے حوالے کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ کارپوریٹس کو انتہائی معمولی قیمتوںپر زمینات الاٹ کی جا رہی ہیں۔ ہزاروں کروڑ روپئے کے قرضہ جات انہیں جاری کئے جا رہے ہیں اور یہ لوگ بینکوں کو دھوکہ دیتے ہوئے بیرون ملک فرار ہو رہے ہیں۔ ہزاروں امیروں نے ہندوستان سے ترک تعلق کرتے ہوئے بیرونی ممالک کی شہریت اختیار کرلی ہے ۔ ان سے قرض کی رقومات واپس لینے پر کوئی توجہ نہیں ہے ۔ ان کے خلاف کارروائیوںکو قانونی رسہ کشی کے نام پر معرض التواء میںرکھا جا رہا ہے ۔ اعتراض غریب عوام کو ملنے والی کچھ معمولی سی راحتوں پر کیا جا رہا ہے ۔
آج ملک میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں عوام کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان کی معیشت جس طرح متاثر ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو ان ریاستوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کو قدرے راحت پہونچانا چاہتی ہیں۔ خود مرکزی حکومت بھی عوام کو پانچ کیلو راشن ماہانہ مفت فراہم کرتے ہوئے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری جماعتوں کی ریاستی حکومتوں کے اقدامات پر اسے اعتراض ہے ۔ یہ حکومت کے دوہرے معیارات ہیں ۔ عوامی فلاح و بہبود اور بہتری کے معاملہ میں سیاست اور دوہرے معیارات سے گریز کرتے ہوئے ہر اس گوشہ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے جس کے اقدامات سے ملک کے عوام کو راحت مل سکے ۔
