گرفتاری کے وقت فرقہ پرست میڈیا نے دہشت گرد بتایا تھا،بے گناہی کی خبر پر سانپ سونگھ گیا
نئی دہلی : مولانا مفتی عبدالسمیع قاسمی کو دہلی کی ایک عدالت نے باعزت بری کرتے ہوئے انہیں 6 سال بعد جیل سے رہا کردیا۔ اطلاعات کے مطابق مفتی عبدالسمیع کو 4 فروری 2016 کو لکھنو اے ٹی ایس نے ہردوئی سے گرفتار کیا تھا۔ تاہم تقریباً 7 سال بعد دہلی کی عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے جیل سے رہا کرے کا حکم دیا۔مفتی قاسمی کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر عدالت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا اور بے قصوروں کی گرفتاری پر روک کا مطالبہ کیا گیا۔ واضح رہیکہ مفتی عبدالسمیع کی گرفتاری کے وقت فرقہ پرست میڈیا نے مہینوں اس خبر کو چلایا تھا اور مفتی قاسمی کو کھلے عام خطرناک دہشت گرد بتایا جارہا تھا لیکن رہائی کے بعد اب گودی میڈیا کے منہ پر تالا لگا ہوا ہے۔ اصل دھارے کے کسی بھی میڈیا نے ابھی تک اس خبر کو نشر نہیں کیا۔ مولانا مفتی عبدالسمیع بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ معتبر شخصیت کے حامل ہیں اور وہ ملت کا عظیم اثاثہ ہیں۔ بے گناہ ہونے کے باوجود مولانا قاسمی کو تقریباً سات سال جیل میں گزارنے پڑے۔ایک اور اطلاع کے مطابق مولانا قاسمی نے جیل میں قید کے دوران قرآن مجید مکمل طور پر حفظ کرلیا ہے۔