تلنگانہ میں یاترا ختم ہونے سے قبل اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کیلئے کوئی ڈیکلریشن کا اعلان کریں : عامر علی خاں
یاترا چارمینار مندر کا حصہ نہ رہے ، سماجی جہدکاروں کی اپیل ، 8 سال تک عوام کے کان خوش کئے گئے
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : سماجی جہد کار یوگیندر یادو نے کہا کہ ملک اور دستور دونوں خطرے میں ہے ۔ دستوری اقدار کا تحفظ کرنے اور ملک میں اتحاد کے پیغام کو فروغ دینے کے لیے راہول گاندھی نے پدیاترا کا آغاز کیا ہے جو وقت کی ضرورت ہے ۔ ملک کو کئی چیلنجس کا سامنا ہے ۔ برائی کا خاتمہ کرنے اور اچھائی کی جیت کے لیے راہول گاندھی کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا یہی صحیح وقت ہے ۔ بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے اور سیاسی مفاد پرستی کے لیے ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا ۔ ملک کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد راہول گاندھی نے نفرت چھوڑو اور سماج جوڑو کا نعرہ دیتے ہوئے ’ بھارت جوڑو یاترا ‘ کا آغاز کیا ہے ۔ یہ ایک غیر سیاسی یاترا ہے جس کی وجہ سے وہ اور سماجی جہدکار اس بھارت جوڑو یاترا کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ اب اگر مگر یا اپنی رائے قائم کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ عوام کے دلوں کو جوڑنے کا وقت ہے ۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے ملک میں کئی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ آر ایس ایس کو بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ مشاورت کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے دو نمبری لوگ ایک نمبری ہوگئے ہیں ۔ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آگیا ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے ایسا بھی دور دیکھا ہے جہاں غلطی کو پہلے دبے الفاظ میں ہی سہی غلطی تصور کیا جاتا تھا ۔ آج غلطی کرنے کے بعد اس کو اس طرح صحیح قرار دیا جارہا ہے ۔ جس کو عام زبان میں چوری پہ چوری سینہ زوری کہا جاتا ہے ۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ میرا گھر جل رہا ہے ۔ ایک شخص پٹرول کی بوتل اور ایک شخص پانی کی بالٹی لے کر کھڑا ہے ۔ اپنا گھر بچانے کے لیے پانی کی بالٹی لے کر کھڑے ہوئے شخص کو اپنا دوست سمجھنا چاہئے ، چاہے کچھ عرصے سے آپ کے اس کے ساتھ کوئی اچھے تعلقات نہیں ہوں گے مگر اس کو اپنا دوست سمجھنا چاہئے ۔ گاندھی بھون میں راہول گاندھی کی ’ بھارت جوڑو ‘ پدیاترا کا جائزہ لینے کے لیے سماجی جہدکاروں ، رضاکارانہ تنظیموں ، طلبہ تنظیموں اور دوسری مختلف تنظیموں کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے یوگیندر نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں ، اے آئی سی سی ایس سی سیل کے قومی صدر کے راجو ، کانگریس کے قائدین مدھو گوڑیشکی ، ملوبٹی وکرامارک ، مہیش کمار گوڑ ، اے دیاکر ملوروی ، شیخ عبداللہ سہیل ، سماجی جہدکار خالد رسول خاں ، سارا میتھوز ، پدمجہ شاہ ، افسر جہاں کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے کہا کہ راہول گاندھی مذہب ، ذات پات اور سیاست سے بالاتر ہو کر بھارت جوڑو یاترا منظم کررہے ہیں جس سے انہیں عوام کی بھر پور تائید حاصل ہورہی ہے ۔ روایتی طور پر مسلمان اور ایس سی ، ایس ٹی طبقات کا جھکاؤ ہمیشہ کانگریس کی طرف دیا ہے ۔ کانگریس اپنے روایتی ووٹ کے لیے کتنا سنجیدہ ہے اس کا اس کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ بے شک ملک نازک دور سے گذر رہا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں سماج میں انتشار پھیلاتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے ۔ ملک میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے راہول گاندھی نے جو پدیاترا شروع کی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ تلنگانہ میں راہول گاندھی کے یاترا کے داخل ہونے کے بعد اختتام سے قبل راہول گاندھی سماج کے مختلف طبقات سے ملاقات کریں ۔ ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کریں اور تلنگانہ چھوڑنے سے قبل اقلیتوں ، ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے کوئی ڈیکلریشن کا اعلان کریں کیوں کہ تلنگانہ کے لوگ راہول گاندھی سے اچھی باتیں سننے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ 8 سال سے ریاست میں صرف عوام کے کانوں کو خوش کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کا ہیڈکوارٹر حیدرآباد ہے اور حیدرآباد کا دل چارمینار ہے ۔ تاریخی چارمینار کے چارمیناروں کو پہلے ہندو مسلم ، سکھ عیسائی کے اتحاد کی نشانی تصور کی جاتی تھی ۔ مگر ٹی آر ایس کے 8 سالہ دور حکومت کو ان چار میناروں کو کے سی آر ، کے ٹی آر ، کویتا اور سنتوش کے میناروں میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ کانگریس کے قائد مدھوگوڑ یشکی نے روزنامہ سیاست کی سماجی فلاحی اور معاشی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اور ریاست میں کئی میڈیا ہاوزس ہیں مگر جو سماجی ذمہ داری روزنامہ سیاست ادا کررہا ہے وہ ذمہ داری کوئی میڈیا ہاوز ادا نہیں کررہا ہے ۔ سیاست کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں ، منیجنگ ایڈیٹر جناب ظہیر الدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے اخبار سیاست کو صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو عوامی مسائل کو حل کرنے کے مرکز میں تبدیل کردیا ۔ جب گودھرا واقعہ پیش آیا تھا اس وقت بھی روزنامہ سیاست نے متاثرین کی ہر طرح سے مدد کی ہے ۔ صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ضرورت مند ہر مذہب کے لوگوں کی مدد کی ہے ۔ کانگریس کے قائد مقننہ ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد راہول گاندھی کی تاریخی یاترا ہے ۔ جب ملک فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں تھا تب ان کے والد آنجہانی راجیو گاندھی نے سدبھاونا یاترا شروع کی تھی ۔ راہول گاندھی ملک کے ہر شہری کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے دیانتداری اور ایمانداری سے پدیاترا کررہے ہیں تاکہ ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جاسکی ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی چارمینار کا دورہ راہول گاندھی کے پدیاترا کا حصہ ہے ۔ شہر سے پدیاترا گذرے گی ۔ سماجی جہدکار سارا میتھوز اور پدمجہ شاہ نے راہول گاندھی کے چارمینار دورے میں بھاگیہ لکشمی مندر کو پروگرام کا حصہ نہ بنانے پر زور دیا اور کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے اس مندر کو 2013 میں غیر مجاز قرار دیا ہے ۔۔ن