حیدرآباد۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ملک بھر میں 24 یونیورسٹیوں کو فرضی اور جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ناموں سے چلائی جانے والی ان یونیورسٹیوں کی ڈگری کی مسلمہ حیثیت نہیں ہے اور ان کا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسٹر رجنیش جین سیکریٹری یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے کہا کہ عوام اور طلبہ ان یونیورسٹیوں میں داخلہ نہ لیں اور ان کی تشہیری مہم کا شکار ہوتے ہوئے ان میں تعلیم جاری نہ رکھیں ۔ انہو ںنے اترپردیش اور دہلی سے برسرکار ان یونیورسٹیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں 8 یونیورسٹی فرضی ہیں اور ان کے صداقتنامو ںکی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں وارنسیہ سنسکرت وشواودیالیہ (وارناسی) مہیلا گرام ودیا پیٹھ (الہ آباد) گاندھی ہندی ودیا پیٹھ (الہ آباد) نیشنل یونیورسٹی آف الکٹروکامپلکس ہومیوپیتھی (کانپور) نیتاجی سبھاش چندر بوس اوپن یونیورسٹی (علی گڑھ) اترپردیش وشواودیالیہ (متھرا) مہارانا پرتاپ سکھشا نکیتن وشواودھیالیہ شامل ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ بھارتیہ سکھشا پریشد کا مقدمہ عدالت میں زیر دوراں ہے۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے بتایا کہ دہلی میں 7 فرضی یونیورسٹیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کمرشیل یونیورسٹی لمیٹڈ‘ یونائیٹڈ نیشنس یونیورسٹی ‘ ووکیشنل یونیورسٹی ‘اے ڈی آر سینٹیریک جوریڈیشیل یونیورسٹی ‘انڈین انسٹیٹیوشن آف سائنس اینڈ انجنیئیرنگ ‘ وشوا کرما اوپن یونیورسٹی فار سیلف ائمپلائمنٹ اینڈ ادھیاتمک وشواودیالیہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اڈیشہ اور مغربی بنگال میں دو فرضی یونیورسٹیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کرناٹک مہاراشٹرا‘ پوڈی چیری ‘اور کیرالا میں ایک ایک فرضی یونیورسٹی موجود ہیں۔سیکریٹری یونیورسٹی گرانٹس کمیشن مسٹر رجنیش جین نے بتایا کہ ملک میں یو جی سی ایکٹ 1956 کے تحت صرف وہی جامعات ڈگری جاری کرسکتی ہیں جن جامعات کو قومی یا ریاستی حکومت کے قوانین کے تحت قائم کیا گیا ہے یا وہ ادارہ ڈگری کی اجرائی کا مجاز ہے جسے پارلیمنٹ کے قانون کے تحت منظوری حاصل ہے۔