ملک بھر میں ویکسین مہم کے پہلے مرحلہ کا وزیر اعظم نے افتتاح کیا

,

   

پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان ایک مہینے کا وقفہ ضروری۔پہلی ویکسین کے بعد بھی احتیاط برتنے کا مشورہ

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ہندوستان میں کورونا ویکسین کی ٹیکہ کاری مہم کا ورچول آغاز کر دیا۔ پہلے مرحلہ کے دوران آج 3 لاکھ لوگوں کو ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ویکسینیشن پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے دن کا پورے ملک کو بے صبری سے انتظار تھا۔ کتنے مہینے سے ملک کے ہر گھر میں بچے، بوڑھے، جوان سبھی کی زبان پر یہ سوال تھا کہ کورونا ویکسین کب آئے گی۔ اب ویکسین آ گئی ہے اور یہ بہت ہی کم وقت میں تیار ہوئی ہے۔وزیر اعظم مودی نے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹیکہ کاری مہم کے پہلے مرحلہ میں تین کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا۔ دوسرے مرحلہ میں ہمیں اس تعداد کو 30 کروڑ تک لے جانا ہے۔ جو بزرگ ہیں، جو مہلک بیماری میں مبتلا ہیں، انہیں اس مرحلہ میں ٹیکہ لگے گا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں، 30 کروڑ سے زیادہ آبادی کے دنیا میں صرف تین ہی ممالک ہیں، خود ہندوستان، چین اور امریکہ۔ تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم پہلے کبھی نہیں چلائی گئی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’دنیا کے 100 سے بھی زیادہ ایسے ملک ہیں جن کی آبادی 3 کروڑ سے کم ہے اور ہندوستان ٹیکہ کاری کے اپنے پہلے مرحلہ میں ہی 3 کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگا رہا ہے۔ میں یہ یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ کورونا ویکسین کی دو خوراکیں دی جانی بہت ضروری ہیں۔ پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان ایک مہینے کا وقفہ رکھا جانا ضروری ہے۔ پہلی ڈوز لینے کے دو ہفتوں کے اندر کورونا کے خلاف مطلوبہ قوت مدافعت پیدا ہو جائے گی۔ ہندوستان کی ٹیکہ کاری انتہائی انسانی قدروں پر مبنی ہے۔ کیونکہ سب سے زیادہ ضرورت مندوں کو سب سے پہلے ٹیکہ دیا جا رہا ہے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ہر ہندوستانی کو اس بات پر فخر ہوگا کہ دنیا بھر کے تقریباً 60 فیصد بچوں جو زندگی کی حفاظت کے لئے ٹیکے لگتے ہیں وہ ہندوستان میں ہی تیار ہوتے ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ کے دوران ہندوستان نے خود اعتماد اور خود انحصار کو حاصل کیا۔ ہندوستان کے ویکسین سائنسدان، ہمارا نظام طب دنیا بھر کے لئے معتبر ہے۔ ہم نے یہ اعتماد اپنے ٹریک ریکارڈ سے حاصل کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے سائنسدان اور ماہرین جب دونوں میڈ ان انڈیا ویکسین کی سلامتی اور اثرات کے حوالہ سے پر اعتماد ہوئے تبھی انہوں نے اس کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت فراہم کی۔ اس لئے ملک کے عوام کو کسی بھی پروپگنڈہ یا منفی تشہیر سے چوکس رہنا ہے۔ ہم دوسروں کے کام آئیں، یہ بے لوث جذبہ ہمارے اندر رہنا چاہیے۔ قوم صرف مٹی، پانی، کنکڑ پتھر سے نہیں بنتی، بلکہ قوم کا مطلب ہوتا ہے لوگ۔ بحران کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو، ملک کے عوام کا خود اعتماد کبھی ختم نہیں ہونا چاہئے۔‘وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’عموماً ویکسین تیار کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن ایک نہیں بلکہ دو ’میڈ ان انڈیا‘ ویکسین بہت ہی کم وقت میں تیار ہو گئیں۔ فیل الحال دیگر ویکسین کو تیار کرنے میں بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ٹیکہ تیار کرنے میں سائنسداوں نے کڑی محنت کی ہے۔ انہوں نے نہ تہور کی فکر کی اور نہ گھر چھٹی منانے گئے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ایسے دن کے لئے ہی قومی شاعر رام دھانی سنگھ دنکر نے کہا تھا، ’جب ماناو (انسان) زور لگاتا ہے، پتھر پانی بن جاتا ہے۔‘ اس موقع پر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 3006 ٹیکہ کاری مراکز کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مربوط کیا گیا تھا۔