ملک کے طلبا کیلئے عالمی جامعات سے ڈگری کا حصول اب مشکل نہیں ہوگا
حیدرآباد۔8۔جنوری(سیاست نیوز) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے بیرونی جامعات کو ہندستان میں کیمپس قائم کرنے کی منظوری کیلئے جاری مسودہ رہنمایانہ خطوط و قواعد کا مشاہدہ کیا جائے تو ملک میں بیرونی جامعات جو ہندستان میں اپنے کیمپس قائم کرنا چاہتی ہیں وہ یو جی سی کو آن لائن درخواست داخل کرسکیں گی۔ملک میں بیرونی جامعات کے قیام کو منظوری کے بعد اب یونیورسٹی تعلیم پر حکومت اور یو جی سی کا کنٹرول بتدریج ختم ہونے لگے گا اور یو جی سی کا یہ عمل یونیورسٹی سطح کی تعلیم کو خانگیانے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود یو جی سی صدرنشین ایم جگدیش کمار کا دعویٰ ہے کہ یو جی سی کے رہنما خطوط تعلیم کو خانگیانے کی سمت پیشرفت نہیں ہے بلکہ یونیورسٹی سطح کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک کی جامعات کو عالمی جامعات کے ساتھ مسابقت کا موقع فراہم کرنے کی کوشش ہے۔بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر 1 تا 500 نمبر پر موجود جامعات کے علاوہ وہ جامعات جو رینک حاصل نہیں کر رہی ہیں لیکن عالمی سطح پر معیاری اور معروف تصور کی جاتی ہیں وہ یو جی سی ویب سائٹ پر ہندستان میں اپنے کیمپس کے قیام کیلئے درخواست داخل کرسکتی ہیں اور یو جی سی کی اسکریننگ کمیٹی کی جانب سے اندرون 45یوم درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد اجازت ناموں کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔صدرنشین یو جی سی کے مطابق عالمی جامعات کو ہندستان میں کیمپس کے قیام کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن یو جی سی کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نصاب اور یونیورسٹی کیمپس کا مشاہدہ کرسکتی ہے۔اسی طرح حکومت سے ان یونیورسٹیز میں فنڈس کی مکمل تفصیلات حاصل کی جاتی رہیں گی اور بیرونی سرمایہ کے استعمال کے متعلق قوانین کے مطابق ہونے کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ان کیمپس میں طلبہ کو بیرونی جامعہ کی ڈگری عطا کی جائے گی اور یوجی سی سے مسلمہ کیمپس میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے طلبہ کو اپنی اس عالمی جامعہ کی مسلمہ حیثیت کیلئے مزید مشکل صورتحال کا یا سند حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے عالمی جامعہ سے ڈگری حاصل کرپائیں گے۔م