ملک میں عوامی نظام تقسیم ، 3.6 کروڑ بوگس راشن کارڈس کی نشاندہی

   

اترپردیش میں 1.85 کروڑ کارڈ حذف، اہم ریاستوں میں حقیقی استفادہ کنندگان کے تعین کے لیے مہم
حیدرآباد۔4۔ستمبر (سیاست نیوز) غریب اور مستحق خاندانوں کیلئے عوامی نظام تقسیم کے تحت رعایتی شرح پر غذائی اجناس سربراہ کی جاتی ہیں۔ راشن کارڈس کے ذریعہ ملک بھر میں اسکیم پر عمل کیا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں غیر مستحکم افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے استفادہ کنندگان کی فہرست سے ناموں کو حذف کیا گیا۔ 2014 اور 2025 کے درمیان ملک بھر میں 3.6 کروڑ راشن کارڈس سرکاری فہرست سے ختم کئے گئے کیونکہ جانچ کے دوران مذکورہ استفادہ کنندگان مستحق نہیں پائے گئے۔ اترپردیش میں سب سے زیادہ 1.85 کروڑ راشن کارڈ ختم کئے گئے ۔ مہاراشٹرا اور مغربی بنگال میں علی الترتیب 46 لاکھ اور 45 لاکھ راشن کارڈس حذف کئے گئے ۔ ہریانہ ، آندھراپردیش اور بہار میں بھی قابل لحاظ تعداد میں راشن کارڈس کو ختم کیا گیا۔ عوامی نظام تقسیم کے تحت استفادہ کنندگان کو چاول مفت سربراہ کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ دو مواقع سے حکومت نے راشن کارڈ ہولڈرس کو بیک وقت تین ماہ کا چاول جاری کیا۔ غیر مستحق افراد کی جانچ کیلئے جن ریاستوں میں خصوصی مہم چلائی گئی، ان میں ٹاملناڈو ، گجرات ، راجستھان ، مدھیہ پردیش، بہار اور آندھراپردیش شامل ہیں۔ عام طورپر انتخابات سے قبل غریب افراد کی تائید حاصل کرنے کیلئے راشن کارڈس جاری کئے جاتے ہیں۔ اجرائی کے موقع پر مقررہ قواعد میں نرمی کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں تک عوامی نظام تقسیم کا اناج پہنچ سکے۔ سرکاری خزانہ پر اسکیم کے بڑھتے بوجھ کو دیکھتے ہوئے غیر مستحق افراد کی نشاندہی کی مہم شروع کی گئی۔ تلنگانہ میں ڈسمبر 2024 میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد تقریباً 20 لاکھ نئے راشن کارڈ جاری کئے گئے ۔ ریاست میں دھان کی ریکارڈ پیداوار کو دیکھتے ہوئے حکومت نے راشن کارڈ میں موجود ناموں کے اعتبار سے فی کس 6 کیلو چاول مفت سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔1/k/m/b