ملک میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش : اکبر الدین اویسی

   

مذہبی منافرت کا کینسر سے زیادہ تیزی سے پھیلاؤ ، حکومت فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کا خاتمہ کرے
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مذہبی منافرت کینسر سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ریاست میں شرپسند عناصر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ مباحث تشکر میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مجلس نے ملک اور ریاست کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی موثر نمائندگی پیش کرتے آئی ہے ۔ پولیس ایکشن کے نام پر کئی لوگوں کا قتل عام کیا گیا ہر طرف خوف کا ماحول تھا باولیوں میں پانی کم تھا اور نعشیں زیادہ تھیں ۔ طویل عرصہ سے مجلس اسمبلی میں نمائندگی کررہی ہے ۔ مسلمانوں سے ہونے والی نا انصافیوں کو سب سے پہلے مجلس نے موضوع بحث بنایا ہے ۔ ایوان کے در و دیوار اس کے گواہ ہے ۔ مجلس نے ہمیشہ مسلمانوں کی آواز اٹھائی ہے ۔ لوگوں نے ہمیں فرقہ پرست کہا تو چند لوگوں نے مسلم پرست کہا ہے ۔ مسلمان پسماندہ طبقات سے زیادہ پسماندہ ہے ۔ کئی کمیشنوں اور کمیٹیوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسلمان پسماندہ طبقات سے بھی زیادہ پسماندہ ہیں ۔ مسلمانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک و ریاست کی ترقی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔ ریاست کی ترقی اور خوشحالی میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو بھی برابر کا حصہ دار بنایا جائے ۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کی جائیدادوں کو بلڈوزرس سے منہدم کیا جارہا ہے ۔ حجاب پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔ بیف کا مسئلہ بنایا جارہا ہے ۔ مساجد کو انہدام کیا جارہا ہے ۔ انتخابات کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی جارہی ہیں ۔ تلنگانہ میں مسلمان محفوظ ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ کانگریس حکومت فسطائی طاقتوں کو شکست دی جائے گی ۔ نفرت کے ماحول کو یہاں فروغ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ سنگاریڈی کے دولت آباد میں شر انگیزی کی گئی ۔ نظام آباد میں کشیدگی پیدا کی گئی ۔ مسلمانوں پر حملے کئے گئے ۔ حکومت ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ دوسرے اداروں میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دی جائے ۔ جس کو بھی نمائندگی دی جارہی ہے اس کی پولیس اور انٹلی جنس رپورٹ منگائی جائے ۔ اگر کانگریس حکومت ہمارے مسائل کو حل کرے گی ہماری ناانصافیوں کو دور کرے گی ہم حکومت کا ساتھ دیں گے ۔۔ 2