ملگ انکاؤنٹر : پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ویڈیو گرافی پیش کرنے کی ہدایت

   

ماویسٹ ملیا کی نعش کو محفوظ کیا جائے، باقی نعشیں رشتہ داروں کے حوالے کی جائیں، کل ہائیکورٹ میںپھرسماعت

حیدرآباد۔/3 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ملگ ضلع کے ایٹوروناگارم میں پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ماویسٹوں کی نعشوں کے بارے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ انکاؤنٹر کے فرضی ہونے کی شکایت کے ساتھ سیول لبرٹیز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی آج دوبارہ سماعت ہوئی۔ عدالت نے انکاؤنٹر میں ہلاک ماویسٹ ملیا کی نعش کو جمعرات تک محفوظ کرنے اور باقی ماویسٹوں کی نعشوں کو افراد خاندان کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے انکاؤنٹر کے بعد پولیس کے اقدامات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کرنے کی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ میں انکاؤنٹر معاملہ کی آئندہ سماعت 5 ڈسمبر جمعرات کو ہوگی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں انکاؤنٹر کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی کل سماعت ہوئی تھی اور عدالت نے نعشوں کو محفوظ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ آج دوبارہ سماعت کے موقع پر درخواست گذاروں اور حکومت کے وکلاء نے بحث کرتے ہوئے اپنے موقف کی تائید میں دلائل پیش کئے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ نعشوں پر زخم کے کئی نشان ہیں اور یہ ایک فرضی انکاؤنٹر ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ نعشوں کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ہدایت دی جائے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ کل ہائی کورٹ کے احکامات کی اجرائی کے بعد تاریکی میں پوسٹ مارٹم انجام دیا گیا اور پنچنامہ کا عمل قانونی طریقہ سے مکمل نہیں ہوا لہذا دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ہدایت دی جائے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی گائیڈ لائنس اور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق نعشوں کی جانچ کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ماویسٹوں کی موت فائرنگ کے تبادلہ میں ہوئی ہے۔ سرکاری وکیل نے فرضی انکاؤنٹر کے استدلال کو مسترد کردیا اور کہا کہ ماویسٹوں کی غذا میں کوئی زہریلی شئے شامل نہیں کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 8 ماہر ڈاکٹرس کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا اور پوسٹ مارٹم کی فوٹو گرافی عدالت میں پیش کی جائے گی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ نعشوں کو محفوظ کرنے کی صورت میں امن و ضبط کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لہذا عدالت سے درخواست کی گئی کہ نعشوں کو رشتہ داروں کے حوالے کرنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس بات کا خلاصہ ہوکہ آیا ماویسٹوں کی غذا میں زہریلی اشیاء شامل کی گئیں اور انہیں حراست میں لینے کے بعد ہلاک کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت جمعرات تک ملتوی کی گئی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ماویسٹ ملیا کی نعش کو چھوڑ کر دیگر نعشوں کو افراد خاندان کے حوالے کیا جائے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ انکاؤنٹر کی وجوہات سے متعلق رپورٹ اور انکاؤنٹر کے بعد کئے گئے اقدامات کی تفصیلات ہائی کورٹ نے طلب کی ہیں۔ حکومت کی رپورٹ کی بنیاد پر ہائی کورٹ فیصلہ سنائے گی۔ درخواست گذاروں میں مہلوک ماویسٹ ملیا کی بیوہ شامل ہے لہذا عدالت نے ملیا کی نعش کو محفوظ کرنے کی ہدایت دی ہے۔1