ممبئی اور مالیگاؤں میں 7یونانی ڈاکٹرس کورونا سے فوت

   

ممبئی 2جون (سیاست ڈاٹ کام )ملک اور باالخصوص ریاست مہاراشٹرا میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے اثرات پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے جا رہے مختلف اقدامات اور اس وباء سے لڑنے والے پہلی صف کے مجاہدین ڈاکٹرس و دیگر طبی عملے کو مہیا کی جانے والی سہولتوں کی ستائش کرتے ہوئے ، اسی طرح کی سہولتیں متبادل طبی خدمات انجام دینے والے ، یونانی ( بی یو ایم ایس ) ڈاکڑس کو بھی فراہم کرنے کا مطالبہ ڈاکٹر زبیر شیخ نے کیا۔ڈاکٹر زبیر شیخ جو سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن ( سی سی آئی ایم ) وزارتِ ایوش حکومت ہند کے سابق وائس پریسیڈنٹ ، اور انٹی گریٹیڈ میڈیسن پریکٹشنر ایسوسیشن ( آئی ایم پی اے ) کے جنرل سیکریٹری نیز مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے حال ہی میں قائم کی گئی ایورویدک، ہومیوپیتھی اور یونانی طریقہ علاج کے ماہرین پر مشتمل دس رکنی کووٰیڈ ٹاسک فورس کے واحد مسلم رکن ہیں نے اس ضمن میں یو این ائی سے ایک خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ پردھان منتری غریب کلیان پیکیج ‘ کے تحت کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں شامل، خانگی طور پر طبی خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور انکے اہل خاندان کے لیے بیمہ (انشورنس) اسکیم کو لازمی طور پر لاگو کیا جائے ۔ انھوں نے بتایا کہ یونانی میڈیکل پریکٹشنرس تقریباً چھ دہایئوں سے مہاراشٹرا میں عوام کو طبی خدمات مہیا کرنے میں مصروف ہیں، صرف ممبئی میں 1500 یونانی ڈاکٹرس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور کے علاوہ ریاست کے دوسرے علاقوں میں بھی 8000 کی قابل لحاظ اور بڑی تعداد میں یونانی ڈاکٹرس مصروفِ عمل ہیں ۔ یہ ڈاکٹرس کورونا وائرس کی اس لڑائی میں صف اول کے مجاہدین کے بطور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس وبائی دور میں اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔