’’دعوت آتی تو بھی میں نہیں جاتا‘‘: صدر مجلس اتحاد المسلمین کا ٹوئٹ
حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) صدارتی امیدوار کے سلسلہ میں غیر بی جے پی جماعتو ںکو ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے دہلی میں طلب کردہ اجلاس میں مجلس اتحاد المسلمین کو مدعو نہیں کیا گیا ۔ ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے منعقد کئے جا رہے اجلاس میں مدعو نہ کئے جانے پر صدر مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اس بات کی توثیق کی کہ اس اجلاس میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا ہے اور اگر مدعو کیا بھی جاتا تو وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتے۔ اسد الدین اویسی نے بتایا کہ صدر جمہوریہ کے انتخابات کے سلسلہ میں ممتا بنرجی کی جانب سے طلب کئے گئے اجلاس میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا اور اگر کیا بھی جاتا تو وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوتے کیونکہ اس اجلاس میں کانگریس موجود ہے۔ ممتا بنرجی نے ملک میں صدارتی انتخابات کے پیش نظر اپوزیشن کے متحدہ امیدوار کے لئے کی جانے والی کوششوں کے تحت دہلی میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے ملک کی تمام غیر بی جے پی پارٹیوں کو مدعو کیا ہے جس میں کانگریس بھی شریک ہوگی۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے علاوہ بیجوجنتا دل‘ عام آدمی پارٹی ‘ شرومنی اکالی دل نے بھی شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کو دو ارکان پارلیمان کے علاوہ 14 ارکان اسمبلی اور 2 ارکان قانون ساز کونسل رکھنے کے باوجود مدعو نہ کئے جانے پر سیاسی حلقوں میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں ترنمول کانگریس کے ذرائع سے دریافت کرنے کی کوشش میں ناکامی ہوئی ہے لیکن اسدالدین اویسی کے یہ کہنے پر اگر انہیں مدعو کیا بھی جاتا تو وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتے سیکولر سیاسی گوشوں کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدارتی امیدوار کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کو میدان میں اتارنے کی کوششوں کی سراہنا کی جانی چاہئے تھی لیکن وہ کانگریس کے اجلاس کا حصہ ہونے کے سبب اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ م