منوگوڑ میں 92 فیصد رائے دہی، کامیابی کے بارے میں امیدوار فکرمند

   


تشدد کے یکا دکا واقعات، بی جے پی امیدواروں کو عوامی ناراضگی کا سامنا، 6 نومبر کو رائے شماری
حیدرآباد 3 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلگو ریاستوں نے توجہ کا مرکز منوگوڑ حلقہ کے ضمنی چناؤ کی رائے دہی تشدد کے یکا دکا واقعات کے سوا مجموعی طور پر پرامن رہی ۔ الیکشن کمیشن نے رائے دہی کیلئے وسیع تر انتظامات کئے تھے اور کسی بھی بے قاعدگیوں سے نمٹنے پیرا ملٹری فورسس و مقامی پولیس کو متعین کیا تھا۔ 119 مراکز پر 298 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے جہاں صبح 7.00 بجے سے شام 6.00 بجے تک پولنگ ہوئی ۔ بعض مراکز پر لمحہ آخر میں ووٹرس کی کثیر تعداد کے باعث مقررہ وقت کے بعد بھی پولنگ کی اجازت دی گئی ۔ صبح سے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ مرد و خواتین کے علاوہ ضعیف افراد بھی حق رائے دہی سے استفادہ کرنے پہنچے تھے۔ منوگوڑ حلقہ میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 241855 ہے اور شام 5.00 بجے تک 187527 رائے دہندوں نے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس طرح 92 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں 91.30 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن سے رائے دہی کے قطعی فیصد کا اعلان باقی ہے۔ حلقہ میں اہم مقابلہ ٹی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی میں ہے جبکہ مجموعی طور پر 47 امیدوار میدان میں ہیں۔ تینوں پارٹیوں نے زیادہ سے زیادہ رائے دہی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ تین اہم امیدواروں میں کانگریس کی پی شراونتی کو خواتین کی تائید ملنے کی اطلاع ملی ہے۔ رائے دہی کے دوران منوگوڑ کے کئی علاقوں میں عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہورہا تھا کہ عوام باشعور ہوچکے ہیں۔ کسی بھی پولنگ اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خرابی کی اطلاع نہیں ملی۔ بعض علاقوں میں ٹی آر ایس و بی جے پی کارکنوں کے درمیان تکرار ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر دھاندلیوں کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی کے امیدوار راج گوپال ریڈی نے مراکز کا دورہ کرکے رائے دہی کا جائزہ لیا۔ ٹی آر ایس کانگریس کارکنوں نے راج گوپال ریڈی کی آمد پر احتجاج کیا۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد ٹی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی امیدواروں میں ٹینشن بڑھ چکا ہے کیونکہ رائے دہی کے رجحان سے کسی بھی پارٹی کے حق میں واضح لہر دکھائی نہیں دی۔ تینوں امیدواروں نے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ۔ ووٹوں کی گنتی 6 نومبر کو ہوگی اور توقع ہے کہ دو گھنٹے میں نتیجہ کا اعلان کردیا جائیگا۔ اسی دوران چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے رائے دہی پر ضلع عہدیداروں کے ساتھ مسلسل ربط قائم رکھا۔ الیکشن کمیشن کے مبصرین مختلف بوتھس کا دورہ کر رہے تھے۔ صبح 11.00 بجے تک 25.8 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک بجے دن رائے دہی کا فیصد 41.3 تھا ۔ 3.00 بجے 59.93 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ر