منوگوڑ میں ایک ووٹ کیلئے 10 ہزار روپئے نقد اور ایک تولہ سونا

   

وعدہ کی تکمیل کیلئے گاؤں والوں کا احتجاج، ووٹرس کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام
حیدرآباد۔/2 نومبر، ( سیاست نیوز) الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے سیاسی پارٹیاں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں اور منوگوڑ کا ضمنی انتخاب اس کا کھلا ثبوت ہے۔ حضورآباد اور ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں ووٹ کیلئے بھاری رقومات خرچ کرنے کی اطلاعات تھیں لیکن منوگوڑ کے ضمنی چناؤ نے تمام سابقہ ریکارڈس توڑ دیئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی دیہاتوں میں رائے دہندوں کو ایک ووٹ کیلئے 10 ہزار روپئے اور ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس وعدہ کے مطابق کئی گاؤں والے وعدہ کرنے والی پارٹی کی تائید میں دکھائی دے رہے تھے۔ رائے دہی سے چند گھنٹے قبل اچانک گاؤں والوں نے احتجاج شروع کردیا۔ ہر کوئی اس بات پر حیرت میں تھا کہ گاؤں والے کس بات پر احتجاج کررہے ہیں۔ دراصل کسی ایک پارٹی نے گاؤں والوں کو ووٹ دینے پر 10 ہزار روپئے نقد اور ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک یہ ادا نہیں کیا گیا۔ گاؤں والے بالخصوص خواتین نے سڑک پر احتجاج کیا اور ان کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں دوسری پارٹیوں کے حامی گاؤں والوں سے رجوع ہوچکے ہیں اور انہیں کچھ اور وعدہ کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گاؤں والے کس پارٹی کے وعدہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ووٹ دیں گے۔ رائے شماری کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ گاؤں والوں نے کس پر بھروسہ کیا۔ر