منی پور میں پھر تشدد ‘ ایک ماہ میںمہلوکین کی تعداد 98 ہوگئی

   

17مندر اور 221چرچ تباہ، آتشزدگی کے 4 ہزار سے زیادہ واقعات

امپھال : منی پور میں تشدد کے تازہ واقعات کی اطلاع ملی ہے ۔ امپھال کے مغربی ضلع کے دو گاؤں پر جدید ترین ہتھیاروں اور بموں سے لیس مشتبہ کوکی عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 17 افراد زخمی ہو گئے۔ جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی، ریاستی پولیس اور منی پور رائفلز کے اہلکاروں نے دو دیہات میں جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں جمعہ کی رات فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ میڈیانے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کو کامیابی کے ساتھ قریبی پہاڑیوں کی طرف دھکیل دیا۔ زیادہ تر اضلاع میں کرفیو میں نرمی کی گئی ہے، وہیں جمعہ کو دو مقامات پر مسلح شرپسندوں اور عام شہریوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع ملی۔ یہ واقعہ مرکزی وزیر امیت شاہ کے منی پور میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے دورے کے بعد امپھال سے روانہ ہونے کے ایک دن بعد پیش آیا۔ شاہ، جو تین روزہ دورے پر تھے، نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کی اورتشدد سے متاثرہ ریاست میں امن وقانون کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ریاست میں ایک ماہ سے تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ۔ چیف منسٹر کے دفترکے ایک بیان کے مطابق، تقریباً 3,734 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1,257 امپھال مغربی ضلع کی ہیں، اس کے بعد کانگ پوکپی (932) اور بشنو پور (844) ہیں۔ منی پور کے تشدد میں ایک ماہ میں مرنے والوں کی تعداد 98 تک پہنچ گئی ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ 11 میگزینز سمیت 144 مسروقہ اسلحہ کوبرآمد کیا گیا ہے۔ برآمد شدہ اسلحے میں 29 سیلف لوڈنگ رائفلیں (SLR)، 15 کاربائنز، 12 INSAS رائفلیں اور 10 گرینیڈ لانچر شامل ہیں۔ تشدد کے واقعات میں تاحال17منادر‘221چرچس تباہ ہوگئے۔ بھاری تعداد میں مکانات کو بھی تباہ کردیا گیا جن میں مائیتی طبقہ کے1988اور کوکی طبقہ کے1425مکانات شامل ہیں ۔ آتشزدگی کے چار ہزار سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں ۔