مودی اور جن پنگ کی پانچ سال بعد ملاقات

   

قازان (روس) : مئی 2020 میں مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے ایک اہم معاہدے کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ ملاقات میں سرحدی معاملے پر نمائندہ خصوصی کی سطح کا اجلاس جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔نامہ نگاروں کو اس اہم ملاقات کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے کہا کہ تقریباً پانچ سال بعد قائدین کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی ہے ۔ آخری ملاقات 2019 میں برازیلیا میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ 2020 میں ہندوستان۔چین سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے اور گشت کے معاہدے اور ان کے حل کے بعد ہوئی ہے ۔قائدین نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران سفارتی اور فوجی چینلز پر مسلسل بات چیت کے ذریعے فریقین کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کا خیرمقدم کیا۔ بات چیت میں، دونوں رہنماؤں نے سرحدی مسائل پر اختلافات کو ہماری سرحدوں پر امن کو خراب کرنے کی اجازت نہ دینے کی اہمیت پر زور دیا اور تسلیم کیا کہ ہند چین سرحدی سوال پر خصوصی نمائندوں کا سرحدی سوال کو حل کرنے اور سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے میں اہم کردار ہے ۔سکریٹری خارجہ نے کہا کہ قائدین نے دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کا تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیا۔
دونوں نے تاثر ظاہر کیا کہ دنیا کی دو بڑی قوموں ہندوستان اور چین کے درمیان مستحکم دوطرفہ تعلقات علاقائی اور عالمی امن اور خوشحالی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے ۔ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ پختگی اور دانشمندی کے ساتھ اور ایک دوسرے کی حساسیت، مفادات، خدشات اور خواہشات کے لیے باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں ممالک پرامن، مستحکم اور فائدہ مند دو طرفہ تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں امن و سکون کی بحالی سے ہمارے دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے جگہ پیدا ہوگی۔