مودی حکومت کے صرف اعلانات ، عمل آوری نہیں: کے ٹی آر

   

جملہ دو لاکھ 47 ہزار جائیدادوں پر دو میعادوں میں تقررات، ہر اسمبلی حلقہ میں کوچنگ سنٹر قائم کرنے کا مشورہ
حیدرآباد۔10۔ مارچ (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں 80 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کیلئے وہ تلنگانہ کے نوجوانوں کی جانب سے چیف منسٹر کے سی آر سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ اسمبلی میں مختلف محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں بڑے پیمانہ پر تقررات محض ملازمتوں کی جاترا نہیں بلکہ ملازمتوں کا کمبھ میلا ہے۔ قائد ایوان کی حیثیت سے کے سی آر نے کل 80039 جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اعلان کے ساتھ ہی نوجوانوں نے جشن منایا۔ حالانکہ یہ نوجوان حکومت کے اعلان کے منتظر تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ اہم سیاسی جماعتوں کے ایک یا دو قائدین نے چیف منسٹر کے بیان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بیانات دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے بیان پر بھروسہ کرنے والے نوجوان تقررات کے امتحانات کی تیاری میں مشغول ہوچکے ہیں۔ جن افراد کو چیف منسٹر کے بیان پر بھروسہ نہیں ہیں ، انہیں چاہئے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے دو کروڑ روزگار کی فراہمی اسکیم میں درخواست دیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے بیانات محض زبانی اعلانات ہیں۔ مودی کی باتوں پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے کیونکہ حکومت عمل آوری میں سنجیدہ نہیں۔ بی جے پی قائدین کے بیانات کروڑوں میں ہوتے ہیں لیکن کاموں میں وہ صفر نظر آتے ہیں۔ بی جے پی قائدین اپنی زبان سے من مانی بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ظہیر آباد اور حیدرآباد میں فارماسٹی کے قیام کی تجویز ہے۔ مختلف کمپنیوں نے ہزاروں کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے اتفاق کیا ہے۔ ریاست میں روزگار کے ایک کروڑ سے زائد مواقع فراہم ہوں گے۔ 2016 ء میں ظہیرآباد میں نمس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ میں صنعتوں کے قیام میں اپنی حصہ داری ادا نہیں کی ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ اپنے علاقوں میں کوچنگ سنٹرس قائم کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار پر مبنی امتحانات کی تیاری کا اہتمام کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے اگر محبت ہو تو ہر اسمبلی حلقہ میں کوچنگ سنٹر قائم کیا جائے۔ اس کے لئے درکار بنیادی انفراسٹرکچر حکومت فراہم کرے گی۔ کے ٹی آر نے بھٹی وکرمارکا اور سریدھر بابو کو بھی کوچنگ سنٹر کے قیام کا مشورہ دیا۔ ٹی سیاٹ چیانل کے ذریعہ مسابقتی امتحانات کی کوچنگ دی جارہی ہے۔ انتخابی منشور میں ٹی آر ایس نے کہا تھا کہ سرکاری محکمہ جات میں ایک لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا تیقن دیا گیا تھا ۔ ٹی آر ایس نے اپنی پہلی میعاد میں ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد جائیدادوں پر بھرتی کی۔ چیف منسٹر کے تازہ ترین اعلان کے بعد تقررات کی تعداد 2 لاکھ 47 ہزار ہوچکی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ ترقی اور فلاح و بہبود کے ایجنڈہ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ر